نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 356
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی تحریک اسلام کے نام پر اٹھے گی ، خواہ وہ حقیقت کے اعتبار سے ناقص ہی کیوں نہ ہو، اس کے یہاں وہ ساری چیزیں درج فہرست ہوں گی ، جو تاریخی طور پر اسلام کی طرف منسوب ہو چکی ہیں۔ اور لازماً اس کا جز ء سمجھی جاتی ہیں۔ اس طرح جو لوگ اس قسم کی کسی تحریک سے متاثر ہوں وہ جب تحریک میں آئیں گے تو اپنے ساتھ ان خیالات کو بھی لے کر آئیں گے ، جو انہوں نے خاندان اور قوم کی طرف سے وراثتاً پائے ہیں، اور جو بچپن سے اب تک کے طویل عمل سے ان کے لاشعور میں اس طرح نقش ہو چکے ہیں کہ وہ نکالنا چاہیں، جب بھی انھیں اپنے اندر سے نکال نہیں سکتے ۔ یہ معاملہ صرف ان خیالات کی حد تک نہیں ہو گا جو بظاہر ابھی تک ان کی زندگیوں میں شامل تھے ۔ بلکہ یہی صورت ان خیالات کے ساتھ بھی پیش آئے گی، جو عملاً اگر چہ ان کی زندگیوں میں نظر نہیں آ رہے تھے، مگر وہ ان کے حافظہ کے خانے میں موجود تھے ۔ وہ جب ایسی کسی تحریک سے متاثر ہوں گے، جو اسلام کی تجدید کے لیے اٹھی ہو تو اس تاثر کے ساتھ ہی اسلام کے بارے میں ان کے وہ پچھلے تمام احساسات بھی ابھر آئیں گے جو اب تک لاشعور میں دبے ہوئے تھے، وہ اپنی تحریک کے مخصوص پروگرام کے ساتھ ساتھ اسلام کے ایسے اجزاء کو بھی خود بخود قبول کر لیں گے ، جن کی طرف تحریک نے انھیں براہ راست توجہ نہیں دلائی تھی، مگر ان کا لاشعور اندر سے کہہ رہا تھا کہ یہ بھی مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مصر کا ایک ” بے دین “ نو جوان جب الاخوان المسلمون کی تحریک سے متاثر ہوتا ہے تو اسے داڑھی رکھنے کا خیال نہیں آتا اور نہ فوٹو سے پر ہیز کرنا وہ ضروری سمجھتا۔ اس کے برعکس ، ہندوستان میں ٹھیک اسی قسم کی ایک تحریک سے یہاں کے ” بے دینی “ نو جوان متاثر ہو کر داڑھی بھی رکھ لیتے ہیں اور اپنی تصویر بھی خود ہی پھاڑ ڈالتے ہیں۔ مصر اور ہندوستان کا یہ فرق دراصل اس فرق کی وجہ سے ہے، جو دونوں ملکوں کے مروجہ اسلام میں پایا جاتا ہے۔ مگر جو چیز غیر شعوری جذبات کے تحت وجود میں آئے وہ آپ کی زندگی کا حقیقی جز ء نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader