Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 357

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتی۔ وہ آپ کے شعور کا حصہ نہیں بنتی۔ چنانچہ یہ صورت حال بھی صرف کاغذ پر یا ظاہری زندگی میں نظر آئے گی۔ آپ کا عمل ہر دیکھنے والے کو بتا دے گا کہ اسلام کا جو تصور آپ کو اپنی مخصوص تحریک سے ملا ہے، وہی آپ کا حقیقی اسلام ہے۔ اسلام کے بقیہ اجزاء جو آپ کے آس پاس نظر آتے ہیں وہ محض رسمی اور روایتی طور پر آپ کے ساتھ لگ گئے ہیں، وہ آپ کے شعوری اسلام کا حصہ نہیں ہیں۔ اس کو چند مثالوں سے سمجھیے۔ 1۔ ایک جلسہ عام کے موقع پر اپنی تحریک کا تعارف کرنے کے لیے آپ ”خطبہ صدارت تیار کرتے ہیں جس میں شروع میں بتایا جاتا ہے کہ ہماری دعوت کے تین نکات ہیں خدا، آخرت، رسالت۔ مگر اس کے بعد ”دنیا میں جو کچھ بگاڑ پایا جاتا ہے اس کا حقیقی سبب ان بنیادی باتوں سے انحراف ہے“ کے فقرے سے جو گریز شروع ہوتا ہے تو چالیس صفحات کا پورا خطبہ مسائل ملکی کی نذر ہو جاتا ہے اور کہیں بھی یہ بتانے کی نوبت نہیں آتی کہ مرنے کے بعد بھی تمھارا کوئی مسئلہ ہے جس سے تمہیں ڈرنا چاہیے۔ البتہ تقریر ختم ہونے لگتی ہے تو پھر روایتی ذہن مجبور کرتا ہے کہ اس قسم کا ایک فقرہ رکھ دیا جائے ”مومن کا اول و آخر مقصد محض رضائے الہی اور فوز آخرت ہے۔ آپ کے اس طویل لفظی مجموعے پر بے شک میں کوئی منطقی اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اس میں دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کو اسلام کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔ مگر پوری تقریر پڑھ کر ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ داعی کس بات سے لوگوں کو ڈرانا چاہتا ہے۔ اور اس کے اوپر کیا چیز سوار ہے۔ لسانی جھگڑے اور معاشی قضیے اس کو نظر آتے ہیں یا وہ دیکھ رہا ہے کہ اسرافیل صور لیے کھڑے ہیں، اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کس وقت حکم ہو اور پھونک مار کر دنیا کو تہ و بالا کر دیں۔ 2۔ اسلام کا ایک جلیل القدر داعی “ اسلام کی تبلیغ میں ہزاروں صفحے سیاہ کر ڈلتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے یہاں تنقید و تحقیق کی کثرت ہے۔ جوش خطابت بھی پایا جاتا ہے۔ الفاظ کا زور بھی کافی موجود ہے۔ مگر اس کی تحریر میں دل کی گھلاوٹ کا ثبوت نہیں دیتیں، اس کے الفاظ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page