Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 358

By Maulana Wahiduddin Khan

میں اندرونی تپش کی آنچ محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے اندر حقیقت کی وہ جھلکیاں نہیں ملتیں جو ایک محرم راز دیکھتا ہے اور دنیا کو دکھاتا ہے۔ اس کی سطروں کے درمیان کہیں یہ نظر نہیں آتا کہ آنسوؤں نے ٹپک کر لکھی ہوئی سیاہی کا رنگ بدل دیا ہو۔ وہ نماز اور روزے کے درجنوں فلسفے بیان کرتا ہے۔ مگر اس کو پڑھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نماز روزے کی شکل میں جو چیز پائی ہے وہ محض ایک قسم کا ظاہری عمل ہے، وہ نماز جو آدمی کو جذب کر لیتی ہے، جو خدا سے سرگوشی اور ملاقات بن جاتی ہے، وہ ابھی تک اسے ملی ہی نہیں۔ وہ تعلق باللہ اور آخرت جیسے عنوانات پر مضامین لکھتا ہے۔ مگر اس کے جملوں میں وہ بے قراری نظر نہیں آتی جو اس بات کا پتہ دے کہ وہ ان ہیجان خیز واقعات سے آشنا ہو کر بول رہا ہے۔ اگر اس کے بعض ادبی فقروں کو ہٹا دیجیے تو ایسا معلوم ہوگا کہ یہ دعوت و تزکیہ کا مضمون نہیں ہے، بلکہ فلسفہ شریعت کے موضوع پر کوئی خشک کتاب ہے، جس میں کچھ معلوم احکام کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کی ایک ظاہری تشریح کردی گئی ہے۔ 3۔ ”سب کچھ“ درج فہرست ہونے کی بنیاد پر حقیقت کے بارے میں فیصلہ کرنا، سادہ لوحی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ کیوں کہ فہرست کا اندراج ہمیشہ حقیقی نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسلک کے بارے میں تاریخی طور پر جو باتیں منسوب ہو چکی ہیں، آدمی خود بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر انہیں اپنی طرف منسوب کر لیتا ہے۔ حالانکہ وہ حقیقی طور پر اس کے مسلک کا جزء نہیں ہوتا۔ حتی کہ بعض اوقات بالکل مختلف سمت میں جاتے ہوئے آدمی ایک چیز کو صرف اس لیے اپنی فہرست میں درج کر لیتا ہے کہ اس کو یہ تسکین حاصل رہے کہ وہ مختلف سمت میں نہیں جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے خلاف چینی جارحیت کے مسئلہ پر جماعت اسلامی ہند نے 1962ء کے آخر میں ایک پوسٹر شائع کیا جس کا عنوان تھا— ”آزادی کی حفاظت کیجیے۔“ اس پوسٹر میں ”مل جل کر اس چیلنج کا منہ توڑ جواب “ دینے کے جو وجوہ بتائے گئے تھے ان میں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page