Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 359

By Maulana Wahiduddin Khan

”(چین) اللہ کے بندوں کو اپنا بندہ اور غلام بنانا چاہتا ہے۔“ ظاہر ہے کہ اس فقرے کا چینی جارحیت کے خلاف مظاہرے سے کوئی تعلق نہیں۔ کیوں کہ چین کے مجرم ہونے کی دلیل اگر یہی ہے تو جماعت اسلامی کے مبینہ نظریہ کے مطابق، ٹھیک یہی جرم وہ حکومت بھی کر رہی ہے ۔ جس کی حمایت میں یہ مظاہرہ کیا گیا ہے۔ پھر ایک مجرم کا طرف دار بن کر دوسرے مجرم سے لڑنا کیا معنیٰ ـــ دراصل یہ فقرہ یہاں صرف اس تسکین کے لیے رکھا گیا ہے کہ یہ جو کچھ ہم کرنے جا رہے ہیں یہ عین ہمارے مقصد کا تقاضا ہے، یہ اس سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نفسیاتی اعتبار سے اصل اہمیت اس کی نہیں ہے کہ آدمی نے اپنی فہرست میں کیا کیا چیزیں درج کر رکھی ہیں۔ بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ کس چیز کو اہمیت دیتا ہے۔ کیوں کہ فہرست میں اندراج کے تو بہت سے اسباب ہوتے ہیں مگر آدمی کی اپنی توجہ کبھی غلطی نہیں کرتی۔ وہ فوراً بتا دیتی ہے کہ آدمی کی اصل شخصیت کیا ہے۔ اور وہ کون سا نقطہ نظر ہے جس کو اس نے واقعی طور پر اپنایا ہے۔ آپ ایسے بے شمار مسلمان دیکھیں گے جو اپنے کو مکمل طور پر مذہبی سمجھتے ہیں۔ آپ کبھی انہیں قائل نہیں کر سکتے کہ ان کا اسلام ناقص اسلام ہے۔ مگر عملی زندگی میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے معاملات تو ہر وقت ان کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں، اس میں ذرا سا گڑ بڑ ہو تو وہ انتہائی حد تک بے چین ہو جاتے ہیں۔ مگر اسلام اور آخرت سے متعلق چیزوں میں بس واجبی فرائض پر قناعت کیے ہوئے ہیں۔ ان کا اسلام اس سے آگے انھیں کوئی بے چینی عطا نہیں کرتا۔ اس وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کا اسلام ناقص ہے، ان کا اصل مذہب دنیا پرستی ہے، نہ کہ آخرت پسندی۔ یہی چیز ہم کو اس تعبیر میں نظر آتی ہے۔ بظاہر دیکھیے تو اس میں انقلاب عالم سے لے کر انقلاب نفس تک سب کچھ لکھا ہوا ملے گا۔ مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب عالم کے مسئلہ پر پورا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page