Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

بات کو بدستور غلط سمجھ رہے تھے۔ اس لیے میں نے چاہا کہ میں ان کے جواب پر اپنا مفصل تبصرہ ان کی خدمت میں روانہ کروں اور اس کے بعد وہ اپنے ان دلائل سے مجھے مطلع فرمائیں جن کی بنا پر وہ میرے جواب کو قابل رد سمجھتے ہیں، اس طرح دونوں کے لیے زیادہ تفصیل کے ساتھ ایک دوسرے کے نقطہ نظر پر غور کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔ چنانچہ میں نے امیر جماعت کو لکھا کہ اگر مولانا صدر الدین صاحب میرے جواب پر تبصرہ کرنے کے لیے آمادہ ہوں تو میں ان کی تحریر کے بارے میں اپنا مفصل جواب لکھ کر روانہ کر دوں، میری درخواست پر امیر جماعت نے مولانا صدر الدین صاحب کو خط لکھ کر دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وحید الدین خاں نے اپنے مختصر تاثرات میں اس سے پہلے جو طرز اختیار کیا تھا، اگر ان کے مفصل جواب کا طرز وہی رہتا ہے تو اس پر وہ تبصرہ کرنے سے معذور ہوں گے ۔ ( یہ مختصر تاثرات امیر جماعت کی خط و کتابت میں شامل ہیں ) یہ اطلاع مجھے امیر جماعت کے خط مورخہ 13 اکتوبر 1962 ء کے ذریعہ ملی۔ چنانچہ اس کے حوالہ سے میں نے مولانا صدر الدین صاحب کے نام حسب خط روانہ کیا: اعظم گڑھ 20 اکتوبر 1962ء محترمی ! سلام مسنون آپ کی تحریر کے جواب میں جو دوسری تحریر میں نے مرتب کی ہے، اس کی مکمل نقل بھیجنے کے سلسلے میں میں نے امیر جماعت کو لکھا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں اس کی نقل بھیجوں تو اس کو پڑھنے کے بعد آپ اپنے تاثرات سے بھی ضرور مجھے مطلع فرمائیں، اس سلسلے میں مجھے امیر جماعت کا ایک خط موصول ہوا جس میں وہ لکھتے ہیں: "جواب کے سلسلے میں مولانا صدر الدین صاحب سے میں نے معلوم کیا تھا وہ فرماتے ہیں کہ اگر ان کی تحریر کا جواب پڑھنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اس پر تبصرہ کرنا افادیت کا حامل ہوگا تو ان شاء اللہ تبصرہ کروں گا، لیکن اگر یہ جواب اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page