Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 360

By Maulana Wahiduddin Khan

زور صرف ہو رہا ہے، اور انقلابِ نفس کا مسئلہ صرف واجبی فرائض کی حد تک قابلِ توجہ بنا ہے تو اس وقت معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مکمل فہرست کی حقیقت کیا ہے۔ اس سلسلے میں چند مثالیں لیجیے۔ 1۔ ایک شخص جب ’’اسلامی انقلاب‘‘ کے عنوان پر بولتا ہے تو نہایت آسانی سے اس کی سمجھ میں آجاتا ہے کہ اس کام کی انجام دہی کے لیے محض قانونی تعمیل کافی نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ’’ آپ کے اوپر خدا کے جو حقوق ہیں ان کی کم سے کم حد تو خدا اور رسول نے مقرر کر دی ہے مگر زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آگے بڑھنے کی اسپرٹ کے ساتھ اس کام میں حصہ لیں۔ یہ ایک عظیم مقصد ہے جس کے لیے آپ کو ’’فرض اور مطالبے سے زائد‘‘ کام کرنا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ ’’خدا کے کام کو اپنے ذاتی کاموں پر ترجیح دیں‘‘، اور ’’مالی اور جسمانی قربانی کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں‘‘۔ وہ کہتا ہے کہ ’’اس کام کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنے ان سب مشاغل اور دلچسپیوں کو ختم کر دیجیے جن کے اندر آپ کے وقت اور فکر کا کوئی حصہ اس کام سے ہٹ کر صرف ہوتا ہو، اور ناگزیر معاشی ضروریات کے سوا اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اس کام کے لیے وقف کر دیجیے۔‘‘ لیکن اگلے روز جب ایک شخص اصلاح نفس کے لیے سادہ زندگی کی ضرورت پر زور دیتا ہے وہ اس گزارش کو ’’نمائشِ فقر کا مطالبہ‘‘ قرار دیتا ہے، اور کہتا ہے: ’’میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ صحابہ کرام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی زندگی میں مصنوعی درویشی پیدا کرنے کی کوشش نہیں فرمائی اور نہ محض اس غرض سے اپنے لباس، مکان اور خوراک کا معیار کمتر رکھا کہ دیکھنے والے ان کی فقیرانہ شان دیکھ کر داد دیں۔ وہ سب بالکل ایک فطری، سادہ اور معتدل زندگی بسر کرتے تھے، اور جس اصول کے پابند تھے۔ وہ صرف یہ تھا کہ شریعت کے ممنوعات سے پرہیز کریں۔ مباحات کے دائرے میں زندگی کو محدود رکھیں ۔ رزقِ حلال حاصل کریں ۔ اور راہِ خدا کی جدوجہد میں بہر حال ثابت قدم رہیں۔ خواہ اس فقر و

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page