Urdu book · تعبیر کی غلطی

نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

Urdu book, p. 361

By Maulana Wahiduddin Khan

فاقہ پیش آئے یا اللہ کسی وقت اپنی نعمتوں سے نواز دے۔ جان بوجھ کر برا پہننا جب کہ اچھا پہنے کو جائز طریقے سے مل سکے۔ اور جان بوجھ کر برا کھانا جب اچھی غذا حلال طریقے سے بہم پہنچ سکے، ان کا مسلک نہ تھا۔ ان میں جن بزرگوں کو راہ خدا میں جدوجہد کرنے کے ساتھ ساتھ حلال روزی فراخی کے ساتھ مل جاتی تھی، وہ اچھا کھاتے بھی تھے۔ اچھا پہنتے بھی تھے، اور پختہ مکانوں میں رہتے بھی تھے۔ خوش حال آدمیوں کا قصد ابحال بن کر رہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پسند نہیں فرمایا۔ بلکہ آپ نے خود ان کو یہ بتایا کہ اللہ تعالی اپنی نعمت کا اثر تمہارے لباس اور کھانے اور سواری میں دیکھنا پسند فرماتا ہے۔ دیکھیے ”جہاد اصغر“ میں اپنا پورا حصہ ادا کرنے کے لیے جس چیز کی ضرورت اتنی شدت سے محسوس ہوئی تھی اس کی ضرورت ”جہاد اکبر“ے کے وقت یاد نہ رہی۔ راہ خدا کی وہ جدوجہد جو سیاست کے میدان میں ہوتی ہے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری معلوم ہوا تھا کہ آدمی ممنوعات ومباحات کے قانونی دائرے سے نکل کر قربانی کی روش اختیار کرے۔ مگر راہ خدا کی وہ جدوجہد جو نفس کے میدان میں ہوتی ہے وہاں صرف ممنوعات سے پرہیز کافی نظر آیا۔ اصلاح زمین کی مہم میں جو چیز اتنی ضروری تھی وہ اصلاح ذات کی مہم میں غیر ضروری ہوگئی۔ پہلی صورت میں ناگزیر معاشی ضرورتوں کے سوا کچھ اور ملنے کی امید نظر نہیں آتی تھی۔ مگر دوسری صورت میں دنیا کی خوش حالی بھی پوری فراخی کے ساتھ حاصل ہوگئی۔ حتیٰ کہ اس نقطۂ نظر کو صحیح ثابت کرنے کے لیے بالکل غلط طور پر آپ نے خدا کے رسول کو بھی اپنے ساتھ گھسیٹ لیا۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول خدا نے ”جان بوجھ کر“ اپنے لیے سادہ اور خشک زندگی کو پسند فرمایا تھا۔ یہ حقیقت اتنی واضح ہے کہ اس پر دلیل پیش کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم ایک مختصر سا حوالہ ذیل میں نقل کرتا ہوں: ے ایک غزوہ سے فارغ ہو کر جب آپ مدینہ واپس پہنچے تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا " مِثْلُ نَحْنُ مِنْ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ (دیکھیے، الزھد الکبیر للبیہقی، حدیث نمبر 373)۔ یعنی، ہم چھوٹے جہاد کے بعد اب بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page