نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 362
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے پہلی قوموں کے ساتھ کیا۔ تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ (327)۔ یعنی، نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قدرت رکھنے کے باوجود تمام لوگوں میں سب سے زیادہ دنیا کی چیزوں سے پرہیز کرنے والے تھے۔ 2۔ مکی زندگی میں صحابہ کرام کو جن بے پناہ مشکلوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے ایک شخص کہتا ہے کہ ”ان کا آنا ضروری تھا۔ کیوں کہ اس کے بغیر مقصد سے وہ تعلق پیدا نہیں ہو سکتا تھا جو ایک سچے مومن کے اندر ہونا چاہیے۔ اسلام کے لیے تکلیفیں سہنے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ ان میں وہ صحیح اسلامی ذہنیت پیدا ہوئی جس کی ضرورت تھی۔ ان کے اندر خالص اسلامی کیریکٹر پیدا ہوا۔ ان کی خدا پرستی میں خلوص آتا اور بڑھتا چلا گیا۔ مصائب کی اس زبردست تربیت گاہ میں کیفیت اسلامی کا طاری ہونا ایک طبعی امر تھا۔ جب کوئی شخص کسی مقصد کے لیے اٹھتا ہے، اور اس کی راہ میں کش مکش، جد و جہد، مصیبت، تکلیف، پریشانی، مار، قید، فاقہ، جلاوطنی، وغیرہ، کے مرحلوں سے گزرتا ہے تو اس ذاتی تجربہ کی بدولت اس مقصد کی تمام کیفیات اس کے قلب و روح پر چھا جاتی ہیں۔ اور اس کی پوری شخصیت اس مقصد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔“ مگر انھیں بزرگ سے جب یہ کہا جائے کہ دنیا کی زندگی میں مومن کو آرام نہیں ڈھونڈنا چاہیے ۔ کیوں کہ اس سے آخرت کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے۔ تو وہ فرمائیں گے : ”شاید تم یہ سمجھتے ہو کہ خدا کی نعمتیں ے صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو خدا کا کام کرنے کے بجائے اپنا کام کرتے رہیں۔ رہے خدا کا کام کرنے والے تو وہ خدا کی کسی نعمت کے مستحق ہیں ، یا پھر تمھارے دماغ پر راہبوں اور سنیاسیوں کی زندگی کا سکہ بیٹھا ہوا ہے۔ اور تم دینداری کے ساتھ رہبانیت کو لازم و ملزوم سمجھتے ہو اس لیے کھاتا پیتا دیندار تم کو ایک عجوبہ نظر آتا ہے۔“ ے دنیا کی نعمتوں کے متعلق ہم کو جو نقطہ نظر دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کو ہم ”قیام“ کا ذریعہ سمجھیں (النساء، 4:5) ان کو ”نعمت“ کی نظر سے دیکھنا مومن کے شایان شان نہیں، کیوں کہ مومن کی نعمت تو خدا اور اس کی جنت ہے۔ (طٰہٰ، 20:131)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader