نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 363
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھیے، یہ بات کہ کسی چیز کی تڑپ کسی ایسے ہی شخص کے دل میں جگہ پا سکتی ہے جس نے اس کے لیے تکلیفیں سہی ہوں۔ یہ سیاسی اور انقلابی پہلو سے تو آپ کو سمجھ میں آگئی۔ مگر یہی بات اس پہلو سے آپ کی سمجھ میں نہیں آئی کہ آخرت کی تڑپ سے وہی دل آشنا ہو سکتا ہے، جس نے آخرت کے لیے دنیا کی لذتوں کو قربان کیا ہو۔ انقلابی فکر کو اپنے اوپر طاری کرنے کے لیے ضروری تھا کہ انقلاب کے لیے سختیاں برداشت کی جائیں۔ مگر طلب آخرت کو اپنے اوپر طاری کرنے کے لیے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ آخرت کی خاطر آدمی ایسے مرحلوں سے گزرے جب کہ اس کے لیے اس نے مشقتیں اٹھائی ہوں۔ دنیوی مقصود کے متعلق جو چیز اتنی اہم تھی، اخروی مقصود کے سلسلے میں وہی چیز آپ کے لیے مضحکہ کا موضوع بن کر رہ گئی۔ 3۔ ایک شخص کی سیاسی قوت شامہ تو اتنی تیز ہے کہ وہ ”غیر الہی نظام حکومت“ کے تحت کوئی بھی ملازمت حاصل کرنے کو ”حرام“ قرار دیتا ہے، اور یہاں تک فتویٰ دیتا ہے کہ ”غیر الہی نظام اطاعت کے ایک جزء اور دوسرے جزء میں کوئی فرق نہیں۔ اس کے جواجزاء بظاہر معصوم نظر آتے ہیں، وہ بھی اسی قدر ناپاک ہیں جس قدر دوسرے غیر معصوم اجزاء۔“ مگر دنیوی سازوسامان برتنے کے بارے میں وہ اپنی حسیات کا حسب ذیل مظاہرہ کرتا ہے: ”میرے نزدیک ہر وہ جائز سہولت جو آدمی کو دین کا کام بہتر اور زیادہ مقدار میں انجام دینے کے قابل بنائے ۔ نہ صرف جائز ہے، بلکہ اس سے فائدہ اٹھانا افضل ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک شخص اگر سیکنڈ کلاس میں آرام سے سفر کر کے دوسرے دن اپنی منزل مقصود پر پہنچتے ہی اپنا کام شروع کر سکتا ہو تو وہ تھرڈ کلاس میں رات بھر کی بے آرامی مول لے۔ اور دوسرا دن کام میں صرف کرنے کے بجائے تھکان دور کرنے میں صرف کرے ۔ اگر وہ گرمی میں بجلی کا پنکھا استعمال کر کے زیادہ دماغی کام کر سکتا ہو تو وہ کیوں پسینے میں شرابور ہو کر اپنی قوت کار کا بڑا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader