نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
Urdu book, p. 364
By Maulana Wahiduddin Khan
حصہ ضائع کر دے۔ کیا ان سہولتوں کو وہ اس لیے چھوڑ دے کہ خدا کی یہ نعمتیں صرف شیطان کا کام کرنے والوں کے لیے ہیں۔ خدا کا کام کرنے والوں کے لیے نہیں۔ دیکھیے، وہی شخص جس کو مخالف سیاسی نظام میں سہولتیں حاصل کرنا اس قدر شدت سے کھٹک رہا تھا، دنیا کے اندر سہولتیں ڈھونڈنے کے سلسلے میں اس کی حس کند ہو گئی۔ حالانکہ غیر اسلامی نظام حکومت میں ملازمت اگر باطل سیاست کے ساتھ تعاون ہے، تو دنیا کی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا اپنے نفس کے ساتھ تعاون ہے۔ وہ دلیل دیتا ہے کہ یہ سہولتیں آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دین کا کام زیادہ مقدار میں اور زیادہ بہتر طور پر کر سکے۔ حالانکہ خدا کے دین کا کام بہتر اور زیادہ مقدار میں انجام دینے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے وہ دل کی تڑپ ہے۔ اور دل کی تڑپ اسی وقت رخصت ہونے لگتی ہے، جب اس کو سہولتوں کے غلاف میں لپیٹ دیا جائے۔ واضح ہو کہ سہولت اور ضرورت میں فرق ہے۔ ضرورت دینی کے لیے تو ہر چیز استعمال کی جا سکتی ہے اور اس وقت وہی چیز افضل ہوگی۔ مگر سہولت جسمانی کے لیے کوئی چیز افضل نہیں۔ اگرچہ شرعاً ایسی تمام چیزوں کا استعمال بالکل جائز ہے۔ یہاں میں امام غزالی کا ایک اقتباس نقل کروں گا: اعْلَمْ أَنَّهُ لَا وُصُولَ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى إِلَّا بِالتَّنَزُّهِ عَنِ الشَّهَوَاتِ وَالْكَفِّ عَنِ اللَّذَّاتِ وَالِاقْتِصَارِ عَلَى الضَّرُورَاتِ فِيهَا وَالتَّجَرُّدِ لِلَّهِ سُبْحَانَهُ فِي جَمِيعِ الْحَرَكَاتِ وَالسَّكَنَاتِ (احیاء علوم الدین، جلد 1، صفحہ 265)۔ یعنی، جاننا چاہیے کہ وصول الی اللہ اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا کہ آدمی شہوات ولذات سے کنارہ کش ہو جائے اور اس میں صرف ضروریات پر قناعت کرے اور اپنی تمام حرکات وسکنات کا رخ اللہ کی طرف پھیر دے۔ دنیا کی نعمتیں بے شک جائز ہیں۔ مگر ان سے بے دریغ فائدہ اٹھانا آپ کو اس خطرے میں ڈالنا ہے کہ آدمی کے نازک احساسات مردہ ہو جائیں۔ اور آخرت طلبی کی اعلیٰ کیفیات سے خالی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader