Urdu book · تعبیر کی غلطی

تصورِ دین

Urdu book, p. 366

By Maulana Wahiduddin Khan

دین کا صحیح تصور دین کے جو احکام ہیں، وہ شکل کے اعتبار سے تو سب کے سب یکساں ہیں۔ مگر ان احکام سے ہم کو جو نسبت ہے وہ یکساں نہیں۔ مثلاً قرآن کا ایک حکم ہے ”نماز قائم کرو“ دوسرا حکم ہے ” زکوٰۃ ادا کرو۔ دونوں حکم بظاہر یکساں ہیں اور دونوں امر کے صیغہ میں ہیں۔ مگر ہمارے ساتھ ان احکام کو جو نسبت ہے، وہ دونوں میں یکساں نہیں۔ نماز کا حکم ایک مطلق حکم ہے جو ہر ہر مومن سے لازماً مطلوب ہے۔ جب کہ زکوٰۃ کا حکم صاحب نصاب ہونے کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ جو شخص بقدر نصاب اموال زکوٰۃ کا مالک نہ ہو، اس کے لیے تو یہ حکم قطعی حیثیت رکھتا ہے، جس طرح نماز کا حکم۔ مگر جو شخص اموال زکوٰۃ کا مالک نہ ہو۔ اس سے نہ ادائینگی زکوٰۃ کا مطالبہ ہے۔ اور نہ اس حکم کی حد تک یہ مطالبہ کہ وہ کوشش کر کے بقدر نصاب اموال زکوٰۃ کا مالک بنے تا کہ زکوٰۃ کے حکم کی تعمیل کر سکے۔ زیر بحث فکر کی غلطی یہ ہے کہ اس نے شریعت اور مشروع لہ کے درمیان مختلف نسبتوں کو نہیں سمجھا اور تمام شرعی احکام کو یکساں حیثیت دے کر ہمارے اور ان کے درمیان ایک ہی نسبت بیان کر دی ۔ یہ کہ اسلام کو مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے رایج و نافذ کرو۔ حالانکہ اسلامی ”نظام زندگی“ کے مجموعے میں کچھ چیزیں ایسی ہیں، جو لازماً مطلوب ہیں اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو حالات سے متعلق ہیں۔ کوئی حکم جس نسبت سے عائد کیا گیا ہو، اسی نسبت سے ہم پر اس کی تکلیف ہوگی۔ اگر نسبت موجود ہو تو وہ لازمی طور پر مطلوب ہوگا۔ اور اگر نسبت موجود نہیں ہے تو اس کی تکلیف بھی ہم پر نہیں ہوگی، اور نہ اس کا یہ تقاضا ہوگا کہ لازماً جدوجہد کر کے ہم اپنے آپ کو اس کا مکلف بنائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود یکہ دینی احکام کی فہرست ساری زندگی سے متعلق ہے۔ مگر زیر بحث فکر ہمارے اور ان احکام کے درمیان جو نسبت متعین کرتی ہے اور جس کے مطابق اسلامی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page