تصورِ دین
Urdu book, p. 367
By Maulana Wahiduddin Khan
مشن کی تشریح کرتی ہے وہ کسی ایک آیت سے نہیں نکلتا۔ اس سلسلے میں پچھلے صفحات میں جو مواد میں نے جمع کیا ہے اس میں آپ اس حقیقت کو نہایت واضح طور پر دیکھ چکے ہیں۔ اب میں بتاؤں گا کہ مختلف احکام دین سے ہماری نسبت کی صحیح تشریح کیا ہے: قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل چیز جو اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے، وہ عبادت ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی، میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ اس بات کو قرآن میں بار بار مختلف انداز سے دہرایا گیا ہے۔ میں چند آیتیں نقل کروں گا۔ • يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ (2:21)۔ یعنی، اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو۔ • وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (15:99)۔ یعنی، اپنے رب کی عبادت کرو، وقت یقین کے آنے تک۔ • وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ (21:25)۔ یعنی، تم سے پہلے جو رسول ہم نے بھیجے ان پر یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا کوئی الہ نہیں۔ اس لیے صرف میری عبادت کرو۔ ان آیات میں انسان کا مقصد تخلیق اور اس کی ذمہ داری یہ بتائی گئی ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرے۔ عبادت کا لغوی مفہوم اپنے آپ کو کسی کے آگے جھکانا اور پست کرنا ہے: أصل العبوديّة الخُضُوع والتذلل (لسان العرب، جلد 3، صفحہ 271)۔ أصل العبوديّة الخضوعُ والذّل (الصحاح للجوهری، جلد 2، صفحہ 503)۔ یعنی، عبادت کا جو لغوی مفہوم ہے، وہی اس کا شرعی مدلول بھی ہے۔ ابو حیان اندلسی نے لکھا ہے: العِبَادَةُ: التَّذَلُّلُ ، قَالَهُ الجُمْهُورُ (البحر المحیط في التفسير، جلد 1، صفحہ 41)۔ یعنی، عبادت کا مطلب پستی اور عاجزی ہے۔ یہی جمہور کا قول ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader