تصورِ دین
Urdu book, p. 368
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی لیے قرآن میں عبادت کا ضد اور اس کے بالمقابل مفہوم کے لیے "استکبار" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے: إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (40:60)۔ یعنی، جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ سب جہنم میں داخل ہوں گے۔ یہاں ہم عبادت کے بارے میں بعض علما اور اصحابِ تفسیر کی رائیں نقل کرتے ہیں: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ: "إِيَّاكَ نَعْبُد" يَعْنِي إِيَّاكَ نُو حَد و نخاف وَ نَرْ جُو رَبَّنَا لَا غَيْرَ ك ( تفسیر الطبری، جلد 1، صفحہ 157 )۔ یعنی، ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔ یعنی ہم ایک تجھی کو معبود جانتے ہیں، تجھی سے ڈرتے ہیں، تجھی سے امید رکھتے ہیں۔ خدایا ان حیثیتوں میں تیرے سوا کسی کو شریک نہیں کرتے۔ فخر الدین رازی: الْعِبَادَةُ عِبَارَةٌ عَنِ الْفِعْلِ الْمُشْتَمِلِ عَلَى نِهَايَةِ التَّعْظِيمِ وَنِهَايَةِ التَّعْظِيمِ لَا تَلِيقُ إِلَّا بِمَنْ يَصْدُرُ عَنْهُ نِهَايَةُ الْإِنْعَامِ، وَنِهَايَةُ الْإِنْعَامِ ( تفسیر الرازی، جلد 20، صفحہ 321 )۔ یعنی، عبادت ایک ایسا فعل ہے جو دوسرے کی تعظیم کے لیے کیا گیا ہو۔ اور یہ صرف اسی کے لیے سزا وار ہے جس سے انتہائی انعام ظاہر ہوا ہو۔ علاء الدین بغدادی: الْعِبَادَةُ أَقْصَى غَايَةِ الْخُضُوعِ وَالتَّذَلُّلِ، وَسُمِّيَ الْعَبْدُ عَبْدًا لِذِلَّتِهِ وَانْقِيَادِهِ (تفسیر الخازن، جلد 1، صفحہ 20 )۔ یعنی، عبادت انتہائی جھکاواور پستی کا نام ہے۔ غلام کو ”عبد“ اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ بالکل منقاد (entirely obedient) اور پست ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader