تصورِ دین
Urdu book, p. 369
By Maulana Wahiduddin Khan
نظام الدین قمی نیشا پوری اِنَّ الْعِبَادَةَ عِبَارَةٌ عَنْ نِهَايَةِ التَّعْظِيْمِ فَلَا تَلِيْقُ اِلَّا لِمَنْ صَدَرَ مِنْهُ غَايَةُ الْاِنْعَامِ وَهُوَ اﷲُ تَعَالٰی (تفسیر النیسا پوری، غرائب القرآن، جلد 1، صفحہ 103)- یعنی، عبادت انتہائی تعظیم سے عبارت ہے۔ یہ اسی کے لیے سزا وار ہو سکتی ہے جس سے انتہائی انعام ظاہر ہوا ہو اور ایسی منعم ہستی صرف اللہ تعالٰی ہے۔ قاضی بیضاوی : وَالْعِبَادَةُ: أَقْصٰى غَايَةِ الْخُضُوْعِ وَالتَّذَلُّلِ، وَلِذَلِكَ لَا تُسْتَعْمَلُ اِلَّا فِي الْخُضُوْعِ لِلہِ تَعَالٰی (تفسیر البیضاوی، جلد 1، صفحہ 29)- یعنی، عبادت انتہائی جھکاؤ اور پستی کا نام ہے۔ اسی لیے یہ لفظ صرف خدا کے آگے جھکنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ ابو السعو د : اَلْعِبَادَةُ أَقْصٰى غَايَةِ التَّذَلُّلِ وَالْخُضُوْعِ (تفسیر آبی السعود، جلد 1، صفحہ 16)- یعنی، عبادت آخری حد تک پست ہونے اور جھک جانے کا نام ہے۔ آلوسی بغدادی : اَلْعِبَادَةُ أَعْلٰى مَرَاتِبِ الْخُضُوْعِ، وَلَا يَجُوْزُ شَرْعًا وَلَا عَقْلًا فِعْلُهَا اِلَّا لِلہِ تَعَالٰی، لِاَنَّهُ الْمُسْتَحَقُّ لِذَلِكَ لِكَوْنِهِ مُوْلِيًا لِأَعْظَمِ النِّعَمِ مِنَ الْحَيَاةِ وَالْوُجُوْدِ وَتَوَابِعِهِمَا ( روح المعانی، جلد 1، صفحہ 89 )- یعنی، عبادت جھکاؤ کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ اور وہ شرعاً یا عقلاً خدا کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں۔ کیوں کہ سب سے بڑا منعم ہونے کی وجہ سے وہی اس کا اصل مستحق ہے۔ شیخ علی المہائمی : اَلْعِبَادَةُ تَذَلُّلٌ لِغَيْرِ عَنْ اِخْتِيَارٍ لِغَايَةِ تَعْظِيمِہِ (تفسیر مہائمی، جلد اول، صفحہ 24)- یعنی، عبادت کا مطلب ہے دوسرے کی تعظیم کے لیے اپنے ارادے سے اس کے آگے پستی اختیار کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader