خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
طرز کا ہو جس طرز کا مختصر جواب وحید الدین خان صاحب پہلے دے چکے ہیں، تو ایسے جواب پر کسی تبصرے سے مجھے معذور سمجھا جائے۔ ان کی یہ بات معقول ہے، آپ اس سلسلے میں جو فیصلہ فرمائیں اس سے براہ راست ان کو مطلع کر دیں۔“ مجھے افسوس ہے کہ میں امیر جماعت کی اس رائے سے اتفاق نہیں کر سکتا کہ آپ کی یہ ”بات معقول ہے۔“۔ آخر میری مختصر تحریر میں وہ کون سا طرز تھا، جس کی بنا پر آپ اسے جواب دینے کے قابل نہیں سمجھتے، میں نے اس میں لفاظی نہیں کی ہے، بلکہ قطعی حقیقتیں پیش کی ہیں جن کے بارے میں آپ کو بہر حال کوئی نہ کوئی رائے دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر اقیموا الدین کی آیت کے سلسلے میں میں نے لکھا تھا کہ یہاں الدین سے مراد کل دین نہیں بلکہ اصل دین ہے اور اس کے لیے واضح قرائن موجود ہیں، چنانچہ مفسرین نے بالا تفاق یہی مراد لیا ہے، اس کے جواب میں آپ نے لکھا: ”مفسرین کرام کا یہ خیال اگرچہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ آیت کا اصل مدعا یہی ہے، مگر اس کے باوجود آیت کے منشا سے یہ مسئلہ بالکل خارج بھی نہیں ہے کہ اصل دین کے بعد تفصیلی پیروی کس شریعت کی جائے گی، بلکہ الذی اسم موصول خاص لا کر اللہ تعالی نے اس سوال کے جواب کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے۔ چنانچہ جن علما کی نظر اس طرف جا سکی ہے انہوں نے ساتھ کے ساتھ اس حقیقت کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں اور پورے کے پورے داخل ہیں۔“ اس سلسلے میں آپ نے جلالین کے دو شارحین کا حوالہ اپنے اس دعوے کی تائید میں پیش کیا ہے کہ وہ اَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ کے اس حکم میں تمام کی تمام شریعت کو داخل مانتے ہیں، مگر جب میں نے اصل کتاب کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ آپ کے دونوں حوالے بالکل غلط ہیں۔ چنانچہ میں نے اپنے جواب میں دونوں شرحوں کی پوری متعلقہ عبارت نقل کر دی اور دکھایا کہ آپ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader