تصورِ دین
Urdu book, p. 370
By Maulana Wahiduddin Khan
عبادت کا اصل مفہوم اگرچہ خضوع اور تذلل ہی ہے۔ مگر خدا کی نسبت سے جب یہ لفظ بولا جائے تو اس میں محبت کا تصور بھی شامل ہو جاتا ہے، کیوں کہ خدا کے آگے مومن کا خضوع اس کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس لیے علما اسلامی عبادت کی تشریح میں یہ دونوں چیزیں بیان کر دیتے ہیں: حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : العبادَةُ فِي اللُّغَةِ مِنَ الذُّلَّةِ، يُقَالُ: طَرِيقٌ مُعَبَّدٌ، وبعيرٌ مُعَبَّدٌ، أَي: مُذَلَّلٌ، وفي الشَّرْعِ: عِبارَةٌ عَمَّا يَجمَعُ كَمالَ المحَبَّةِ والخُضُوعِ والخَوفِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحه (134) یعنی عبادت کے لغوی معنی پست ہونے کے ہیں۔ اسی سے طریق معبد اور بعیر معبد کہا جاتا ہے۔ اور شریعت میں اس سے مراد ایک ایسی چیز ہے، جس میں انتہائی محبت کے ساتھ انتہائی خضوع اور خوف جمع ہو گیا ہے۔ امام ابن تیمیہ کے الفاظ یہ ہیں : وَلَفْظُ الْعُبُودِيَّةِ يَتَضَمَّنُ كَمَالَ الذُّلِّ، وَكَمَالَ الْحُبِّ (الفتاوى الكبرى، جلد 5، صفحه (196) یعنی، عبودیت انتہائی عاجزی اور انتہائی محبت کے مجموعے کا نام ہے۔ حافظ ابن قیم نے لکھا ہے: العِبَادَةُ تَجمَعُ أَصْلَيْنِ: غَايَةُ الْحُبِّ بِغَايَةِ الذُّلِّ وَالْخُضُوعِ (مدارج السالکین، جلد 1، صفحه (115) یعنی، عبادت کے دو اجزاء ہیں: انتہائی محبت، انتہائی عجز اور پستی کے ساتھ۔ معلوم ہوا کہ عبادت کا اصل خدا کے آگے پستی اور عاجزی اختیار کرنا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں خشیت، تضرع، اخبات، انابت، خشوع اور قنوت وغیرہ الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ خدا کی عبادت کرنا، خدا کے لیے اپنے آپ کو انتہائی حد تک جھکا دینا ہے۔ پھر عبادت کا یہ عمل جس ہستی کے آگے ہوتا ہے، وہ چونکہ کوئی ظالم و جابر ہستی نہیں ہے، بلکہ انتہائی شفیق ہستی ہے اور ہمارے اوپر اس کے بے پایاں احسانات ہیں۔ اس لیے اس اظہار عجز کے اندر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader