تصورِ دین
Urdu book, p. 371
By Maulana Wahiduddin Khan
لازمی طور پر محبت کی شان پیدا ہوجاتی ہے ۔ بندے اور خدا کا تعلق ایک انتہائی محبوب ہستی سے انتہائی عجز کا تعلق ہے۔ عین اس وقت جب بندہ شدت خوف سے کانپ رہا ہوتا ہے، جب خدا کے تصور سے آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں، اس وقت بھی اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بہترین جذبات خدا کے لیے وقف ہوتے ہیں، وہ انتہائی اشتیاق کے ساتھ خدا کی طرف لپک رہا ہوتا ہے، وہ ایک درد انگیز محبت کی اعلیٰ ترین کیفیت میں اپنے آپ کو لپٹا ہوا پاتا ہے ۔ وَالَّذِیْنَ آمَنُوۡاۤ اَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ (2:165)۔ یعنی، جو اہل ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ خدا کے سامنے عاجزی اختیار کرنا بلاشبہ اس سے انتہائی خوف کی بنا پر ہوتا ہے۔ مگر یہ خوف کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جو کسی ڈراونی شے کو دیکھ کر آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ دراصل یہ ایک ایسا جذبہ ہے، جس کو کسی بھی ایک لفظ سے صحیح طور پر تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ انتہائی امید اور انتہائی اندیشہ کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت ہے، جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کرپاتا کہ دونوں میں کس کو فوقیت دے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے، اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھینے کا خطرہ محسوس کرتا ہے ۔ اسی سے پانے کی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو سراپا اطمینان ہے اور ایسا اطمینان ہے جو سراپا اضطراب ہے۔ اس تشریح سے معلوم ہوا کہ عبادت، اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، ایک حسیاتی واقعہ ہے، نہ کہ کوئی خارجی واقعہ۔ انسان اپنے آخری تجربہ میں ایک حسیاتی وجود ہے۔ اس لیے انسان کی نسبت سے عبادت کی آخری شکل ایک حسیاتی واقعہ ہی ہوسکتی ہے، نہ کہ کسی خارجی واقعہ کو ظہور میں لانا۔ اسی لیے قرآن میں تقویٰ کو عبادت کا حاصل قرار دیا گیا ہے: یَا أَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (2:21)۔ یعنی، اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تم کو اور پچھلے لوگوں کو پیدا کیا ہے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader