Urdu book · تعبیر کی غلطی

تصورِ دین

Urdu book, p. 372

By Maulana Wahiduddin Khan

عبادت اپنے خارجی ظہور کے اعتبار سے، متقیانہ زندگی کا نام ہے اور اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے اس گہرے ادراک اور اس سے اس شدید تعلق کا نام ہے، جب کہ بندہ اپنے رب میں اتنا محو ہو جائے کہ اس پر حضوری کی کیفیت طاری ہونے لگے: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَاَنَّکَ تَرَاہُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔ یعنی، احسان کا مقام یہ ہے کہ تم اس طرح خدا کی عبادت کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اس ارشادِ رسول کے مطابق اعلیٰ ترین عبادت یہ ہے کہ بندہ خدا کی یاد اور اس کے تصور میں اتنا گم ہو جائے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے قریب محسوس کرنے لگے۔ اس پر استحضار کی ایسی کیفیت طاری ہو گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یہی کیفیت قرب، عبادت کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ وہ تمام اعمال جن کو قربات یا مناسک یا مراسم عبودیت کہا جاتا ہے، وہ اسی عبادت کے حصول کے طریقے اور ان کے لازمی مظاہر ہیں جو خود خدا کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان مظاہر کے بغیر یا ان کے باہر خدا کی عبادت کا دعویدار ہو تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر حقیقتاً کسی کے اندر عبادت پائی ہی نہیں جا سکتی۔ انسان اگر چہ فی الواقع اس مخصوص روح کا نام ہے جو ہم کو نظر نہیں آتی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی جسم کے بغیر اس دنیا میں کسی انسانی وجود کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ عبادت کا لفظ اگر چہ ایک لحاظ سے ساری شریعت پر حاوی ہے۔ کیوں کہ بندہ اپنے معبود کو راضی کرنے اور اس کے حکم پر کار بند ہونے کے لیے جو کچھ کرتا ہے ۔ ان سب کا محرک اس کا جذبۂ عبودیت ہی ہوتا ہے۔ مگر عبادت اصلاً اور اوّلاً اس مخصوص عمل کا نام ہے، جو بندہ اور خدا کے درمیان ہوتا ہے۔ بندے اور بندے کے درمیان کا عمل عبادت کا تقاضا ہے۔ جب کہ خدا اور بندے کے درمیان کا عمل بذاتِ خود عبادت ہے۔ بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو وہ براہ راست خدا کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ عین اس کے آگے اس طرح جھکا ہوا ہوتا ہے کہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی تیسرا وجود حائل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، اخلاق و معاملات میں جب وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page