اطاعت
Urdu book, p. 378
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیل کی حیثیت میں ہو تو وہ اس سے انحراف کرے۔ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُبِيناً (33:36)۔ یعنی، کسی مومن یا مومنہ کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور رسول کسی امر کا فیصلہ کر دیں تو وہ اپنے امر میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو خدا اور رسول کی نافرمانی کرے گا تو وہ صریح گمراہ ہو گیا۔ یہ انفرادی اطاعت ہر شخص کے اوپر خدا کا لازمی حق ہے۔ کوئی شخص ہر گز خدا کے یہاں عابد شمار نہیں کیا جا سکتا اگر وہ اپنی عملی زندگی میں ان احکام کی تعمیل نہ کر رہا ہو۔ جو حالات اور معاملات کے لحاظ سے اس کے اوپر خدا کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔ "عبادت" اگر انسان کی اندرونی حوالگی کا نام ہے تو اطاعت یہ ہے کہ انسان اپنے ظاہر کو خدا کے حوالے کر دے۔ اس کی خارجی زندگی بالکل خدا کی مرضی کے تابع ہو جائے۔ ہر مومن اور مومنہ کے اوپر لازم ہے کہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے جن جن معاملات سے اس کا سابقہ پیش آئے، ان میں وہ مکمل طور پر خدا کی اطاعت کرے ۔ حتی کہ کھانے پینے کے معاملہ میں بھی وہ اس کی مرضیات کی پابندی کرنے لگے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (2:172)۔ یعنی، اے ایمان لانے والو جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان کو کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ احکام کے جس مجموعہ کے لیے میں نے "اطاعت" کا عنوان اختیار کیا ہے ۔ اس کی دوسری قسم وہ ہے جس کو ہم اجتماعی احکام کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہ احکام ہیں جن کی تعمیل کسی ایک شخص کی مرضی پر منحصر نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ اسی وقت روبعمل آتے ہیں جب پورا معاشرہ ان کو عمل میں لانے کے لیے تیار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ احکام ہمیشہ اس وقت نازل ہوئے ہیں جب اہل ایمان نے اپنے درمیان سیاسی تنظیم قائم کر لی تھی ۔ اور وہ اس حیثیت میں ہو گئے تھے کہ اس قسم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader