Urdu book · تعبیر کی غلطی

اطاعت

Urdu book, p. 379

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سماجی قوانین کو بسور نافذ کر سکیں۔ شریعت کے اجتماعی احکام کا مخاطب با اختیار معاشرہ ہے، نہ کہ متفرق اور منفر داہل ایمان۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب تک وہ مصر میں تھے۔ انھیں تو رات کے قانونی احکام نہیں دیے گئے۔ البتہ مصر سے نکلنے کے بعد جب انھیں آزاد اور با اختیار گروہ کی حیثیت حاصل ہو گئی تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوانین بھیج دیے گئے۔ ٹھیک یہی صورت عرب میں اختیار کی گئی۔ مکہ میں شریعت کا وہ حصہ اترا جو ذاتی طور پر ہر ہر مومن سے مطلوب ہے، اور جس کی ہر حال میں لازمی اقامت کا حکم ہے۔ اور بقیہ شریعت حالات کی نسبت سے بھیجی جاتی رہی۔ یہ احکام بعد کو اس وقت دیے گئے جب اہل ایمان کو زمین پر اقتدار حاصل ہو گیا۔ احکام نازل ہونے کی یہ ترتیب بتا رہی ہے کہ عام حالات میں اہل ایمان پر دین کا صرف اتنا ہی حصہ مشروع و مفروض ہے جتنا دور اقتدار سے پہلے اترتا ہے۔ اس کے علاوہ بقیہ احکام کی تعمیل ان پر صرف اس وقت فرض ہوتی ہے، جب انھیں اقتدار اور حکومت کے مواقع حاصل ہو جائیں۔ جو اس طرح کے احکام کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔ میری ان سطروں کو پڑھ کر ایک صاحب نے بڑے زور و شور سے تنقید کی، فرمایا: ” مکی دور کے مسلمانوں پر ہم اپنے آپ کو قیاس نہیں کر سکتے۔ مکہ کا مسلمان اگر سود لیتا تھا، مشرکہ سے نکاح کرتا تھا، زانی کو سنگسار نہیں کرتا تھا، چور کے ہاتھ نہیں کاٹتا تھا۔ تو اس سے اس پر قطعاً کوئی الزام نہیں لگ سکتا تھا۔ کیوں کہ ان مسائل کے بارے میں ابھی تک کوئی حکم اترا ہی نہیں تھا۔ لیکن آج کی صورت واقعتاً بلکل دوسری ہے۔ آج خیر یہ تو کسی طرح ممکن ہے ہی نہیں کہ وہ سود، قمار، شراب، نکاح مشرکات وغیرہ امور سے تعلق رکھنے والے احکام دین کو مدنی دور کے احکام کہہ کر ٹال دے۔ دین کے اجتماعی احکام کے بارے میں بھی وہ اس طرح کی گنجائش نہیں پاسکتا کہ ان کے عملی تعطل کو نظر انداز کر دے۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page