خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دعوے کی حقیقت صرف یہ ہے ان دونوں حضرات نے جو بات الَّذِیۡٓ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کے فقرہ کے بارے میں کہی تھی، وہ بالکل غلط طور پر آپ نے اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ کے فقرے کے ساتھ جوڑ دی، حالانکہ دوسرا فقرہ جس کے بارے میں اصل بحث ہے، اس کے متعلق جلالین کے اصل متن اور اس کی دونوں شرحوں میں یہ صراحت موجود ہے کہ اس میں عموم مرادنہیں۔ اب ظاہر ہے کہ آپ کے لیے دو ہی راہ ہے، یا تو آپ اعتراف کریں کہ آپ سے حوالہ دینے میں غلطی ہوئی، یا یہ ثابت کریں کہ ان شرحوں کے بارے میں جو بات میں کہہ رہا ہوں وہ صحیح نہیں، ایسی سنگین بات کے سلسلے میں آپ کی خاموشی حیرت انگیز ہے۔ اگر ایسی باتیں بھی آپ کے نزدیک ناقابل جواب ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ کون سی بات ہوگی جس کا جواب دینا آپ ضروری سمجھیں گے۔ میری مختصر تحریر میں جو طرز ہے وہ یہی ہے کہ مجھے دلیل کی بنیاد پر آپ کی باتیں غلط معلوم ہوئیں اور ان کو میں نے بے لاگ طور پر ظاہر کر دیا، اب اگر یہ طرز آپ کے نزدیک مناسب نہیں ہے تو اس کا دوسرا بدل یہی ہے کہ میں بے دلیل آپ کی باتیں مان لوں، لیکن اگر میں ایسا کر سکتا تو اس بحث ومباحثہ کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی۔ میں دوبارہ آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ اپنے مذکورہ بالا فیصلہ کو واپس لے لیں اور مجھے اپنی اس آمادگی سے مطلع فرمائیں کہ آپ میرے جواب کو پڑھنے کے بعد اس کے بارے میں اپنے تاثرات سے مجھے مطلع فرمائیں گے تا کہ اس کی مکمل نقل آپ کی خدمت میں بھیجی جاسکے۔ خادم وحید الدین ꧁༺꧂ رام پور 12 نومبر 1962ء برادر مکرم! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ آپ کا کارڈ کافی دن ہوئے ملا تھا، جواب میں بڑی تاخیر ہو گئی جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ آپ کی فرمائش کے باوجود میں اپنے نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکا ہوں اور میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader