Urdu book · تعبیر کی غلطی

اطاعت

Urdu book, p. 380

By Maulana Wahiduddin Khan

میرا جواب یہ ہے کہ یہاں دو مختلف قسم کے احکام کو ملا کر آپ نے خلط مبحث کر دیا ہے۔ جہاں تک سود، قمار اور شراب وغیرہ کی شخصی حرمت کا سوال ہے، ان احکام کا اپنی مکمل شکل میں مدینہ میں نازل ہونا اس بنا پر نہیں تھا کہ وہ مکہ میں یا مکہ جیسے حالات میں مطلوب نہیں ہوتے۔ بلکہ اس کی وجہ تدرج فی الاحکام کی حکمت تھی، جیسا کہ حضرت عائشہ کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ اگر اس رعایت کی ضرورت نہ ہوتی تو یقیناً یہ تمام احکام پورے کے پورے مکہ ہی میں بھیج دیے جاتے ۔ کیوں کہ ان احکام کی تعمیل کے لیے با اقتدار ہونے کی شرط نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہر مسلمان سے شخصی طور پر بھی لازماً مطلوب ہیں۔ اس کے برعکس، ”چور کا ہاتھ کاٹو“ اور ”زانی کو کوڑے مارو“ جیسے احکام کی تعمیل کے لیے اقتدار ضروری ہے۔ اس لیے وہ مدینہ ہی میں اتر سکتے تھے اور وہیں اترے۔ ایسے حالات کے بغیر اس قسم کے احکام پہلے بھی کسی امت کو نہیں دیے گئے۔ اور نہ اب دیے جاسکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پہلی نوعیت کے احکام کے لیے مدینہ کا لفظ صرف ”بعد“ میں اترنے کا ہم معنی ہے، جب کہ سیاسی اور اجتماعی احکام کا مدینہ میں اترنا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ”حالات اقتدار “ میں پہنچنے پر اترے۔ دونوں قسم کے احکام کا فرق اس سے بھی واضح ہے کہ پہلی نوعیت کے احکام نازل ہونے کا آغاز تو دور اقتدار سے پہلے ہی ہو جاتا تھا اور بعد کو ان کی تکمیل ہوتی ۔ جب کہ دوسری نوعیت کے احکام سرے سے اس وقت تک بھیجے ہی نہیں جاتے جب تک اہل ایمان کو آزاد اور با اختیار حیثیت حاصل نہ ہو جائے۔ شرعی احکام کے دائرۂ عمل کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اترنا خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ احکام مطلقاً مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں۔ ان کا تعین ہمیشہ اس شخص یا گروہ کے واقعی حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے، جو اس کا مخاطب ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تمدنی اور اجتماعی احکام کا مخاطب صرف اہل ایمان کا وہ گروہ ہے، جو ان احکام کو عمل میں لانے کی حیثیت میں ہو۔ محدود دائرہ اختیار رکھنے والے اہل ایمان کو یہ حکم ہی نہیں دیا گیا ہے کہ وہ سماجی اور ملکی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page