Urdu book · تعبیر کی غلطی

اطاعت

Urdu book, p. 381

By Maulana Wahiduddin Khan

پیمانے پر دینی احکام کو نافذ کریں۔ احکام کی تعمیل ایک عملی مطالبہ ہے اور کوئی عملی مطالبہ صرف انھیں لوگوں سے کیا جاسکتا ہے، جو پہلے سے اس کا اققرار کر چکے ہوں اور اسی کے بقدر کیا جاسکتا ہے جتنا بالفعل ان کے لیے ممکن ہے۔ شریعت کا واضح اصول ہے کہ ــ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (2:286) ــ یعنی، اللہ تعالیٰ کسی کے اوپر اتنے ہی عمل کی ذمہ داری ڈالتا ہے جتنا اس کے ”وسع“ میں ہو۔ وسع سے زیادہ کا مکلف ٹھہرانا اللہ کا طریقہ نہیں۔ پھر اہل ایمان کو ایسے احکام کیوں کر دیے جاسکتے ہیں، جن کی وہ تعمیل کرنے کی حیثیت میں نہ ہوں۔ اگر کوئی شخص احکام دین کی تفصیل پیش کر کے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اہل ایمان ہر حال میں اس بات کے مکلف ہیں کہ وہ اس پوری فہرست کو زمین پر نافذ کریں، تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص زکوٰۃ کے قوانین کا حوالہ دے کر کہے کہ سرمایہ کی وہ تمام اقسام جن پر زکوٰۃ کی شرمیں متعین کی گئی ہیں، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوشش کر کے ان تمام مدوں کا مالک بنے، تا کہ زکوٰۃ کے عنوان سے جو فرائض عائد کیے گئے ہیں، اپنی زندگی میں وہ ان سب کی تعمیل کر سکے۔ معلوم ہوا کہ دین کے تفصیلی تقاضے مطلقاََ مشروع نہیں ہیں۔ بلکہ حالات کی نسبت سے مشروع ہوتے ہیں۔ اہل ایمان کا دائرہ جس نسبت سے پھیلتا ہے، اسی نسبت سے دین کے تقاضے بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ جب تنہا ایک شخص مومن ہو تو اس پر دین کا اتناہی حصہ فرض ہوگا جتنا اس کی ذات سے متعلق ہے۔ اس وقت اس کی اپنی ذات ہی وہ مقام ہوگی جہاں وہ ہدایات الہی کی تعمیل کرے گا۔ جب اہل ایمان ایک یا چند خاندان کی صورت اختیار کر لیں تو وہی خاندان اپنے دائرہ عمل کے لحاظ سے اس کے مخاطب ہوں گے۔ اور جب اہل ایمان کا کوئی گروہ ایک با اختیار معاشرہ کی حیثیت حاصل کر لے تو اس وقت پورے معاشرے کا فرض ہوگا کہ خدا کی طرف سے اس کے معاشرتی معاملات کے لیے جتنے بھی احکام دیے گئے ہیں، وہ ان سب کی مکمل پابندی اختیار کرے ۔ اور چونکہ معاشرے کے پیمانے پر عمل اقتدار کے بغیر نہیں ہوسکتا اس لیے جب اہل ایمان کا کوئی معاشرہ اس حکم کا مخاطب ہو تو لازمی طور پر یہ مفہوم بھی اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page