Urdu book · تعبیر کی غلطی

اطاعت

Urdu book, p. 382

By Maulana Wahiduddin Khan

میں شامل ہوگا کہ وہ اپنے اوپر ایک سیاسی امیر مقر رکریں ۔ اور اس کے ماتحت اجتماعی زندگی بنا کر تمام شرعی قوانین کا اجرء عمل میں لائیں۔ بعض لوگوں کی طرف سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ ” اقتدار حاصل کرنے کی براہ راست کوشش کرنا اسلام کے پیروؤں کی دینی ذمے داری نہیں ہے ۔ اقتدار کی حیثیت دراصل انعام کی ہے جو دین کی مخلصانہ پیروی کے نتیجے میں اللہ تعالی کی طرف سے اہل ایمان کو عطا ہوتا ہے۔“ زیرِ بحث تعبیر کے حامی اس تصور پر سخت تنقید کرتے ہیں ۔ وہ اسلام کے سیاسی اور سماجی احکام کی فہرست پیش کر کے کہتے ہیں کہ اگر حکومت حاصل کرنا ضروری نہیں ہے تو ان احکام کی تعمیل کس طرح ہوگی۔ مگر اس بحث میں دونوں فریق غلطی پر ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ ایک آزاد مسلم معاشرے کا فرض تو یقیناً یہی ہے کہ وہ اپنے درمیان اسلام کی بنیادوں پر ایک سیاسی نظام قائم کرے، کیوں کہ اس کے بغیر معاشرے کے پیمانے پر شریعت کی تعمیل نہیں کی جاسکتی۔ مگر جہاں مسلمان اس حیثیت میں نہ ہوں، وہاں اسلام ان کو خارجی زندگی کے لیے جو پروگرام دیتا ہے، وہ نصبِ امامت نہیں بلکہ انذار وتبشیر ہے۔ اس انذار وتبشیر کی مہم میں جو مراحل بھی پیش آئیں، انھیں اس میں پوری طرح ثابت قدم رہنا چاہیے۔ اگر انہوں نے ایسا کر دیا تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی مددفرمائے گا، اور ان کے لیے ایسے حالات پیدا کرے گا جو انھیں اقتدارحکومت تک لے جانے والے ہوں۔ پہلی صورت میں حکومت قائم کرنا اہل ایمان کا فرض ہے ۔ دوسری صورت میں حکومت ملنا اللہ تعالی کا انعام ہے۔ نصب امامت کا مسئلہ اسی آخری صورت حال سے متعلق ہے جو منتفقہ طور پر واجب ہے۔ مثال کے طور پر یہاں چند حوالے درج کیے جاتے ہیں۔ ۔ نَصْبُ الاِْمَامِ عِنْدَنَا وَاجِبٌ (شرح المواقف للجر جانی، جلد 8، صفحہ 376)۔ یعنی، مسلمانوں کے لیے اپنے اوپر امام مقرر کرنا ہمارے نزدیک واجب ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page