اطاعت
Urdu book, p. 383
By Maulana Wahiduddin Khan
لَا بُدَّ لِلْأُمَّةِ مِنْ إِمَامٍ (شرح المقاصد للتفتازانی، جلد 5 ، صفحہ 233)۔ یعنی ، مسلمانوں کا ایک امام ہونا لازم ہے۔ الْمُسْلِمُونَ لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْ إِمَامٍ (العقائد النسفیة مع شرحہ للتفتازانی، صفحہ 467)۔ یعنی، مسلمانوں کے لیے ایک امام ضروری ہے۔ اس مسئلے کی اہمیت کا یہ حال ہے کہ فقہ و عقائد کی کوئی بھی کتاب اس کے تذکرہ سے خالی نہیں۔ اور اس میں خوارج کے ایک معدوم فرقہ "نجدات" کے سوا کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ علامہ ابن حزم لکھتے ہیں: اِتَّفَقَ جَمِيعُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَجَمِيعُ الْمُرْجِئَةِ وَجَمِيعُ الشِّيعَةِ وَجَمِيعُ الْخَوَارِجِ عَلَى وُجُوبِ الْإِمَامَةِ حَاشَا النَّجَدَاتِ مِنَ الْخَوَارِجِ ۔ (الفصل في الملل لابن حزم، جلد 4، صفحہ 72)۔ یعنی ، تمام اہل سنت، فرقہ مرجیئہ، شیعہ اور باستثنائے فرقہ نجدات تمام خوارج امامت کے واجب ہونے پر متفق ہیں۔ اس معاملے میں اگر اختلاف ہے تو صرف یہ کہ اہل سنت والجماعت اس کو ”سمعاً“، یعنی شرعی حکم کے طور پر واجب مانتے ہیں۔ اور بعض فرقے مثلاً زیدیہ اور معتزلہ کا قول یہ ہے کہ یہ از روئے عقل واجب ہے۔ مگر اپنے اوپر سیاسی امام مقرر کرنے کا مسئلہ ایک ایسے معاشرہ سے متعلق ہے، جو مستقل اجتماعی حیثیت کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنی ایک علیحدہ سیاسی تنظیم بر پا کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ متفرق اور منتشر اہل ایمان کے لیے اپنے اوپر سیاسی امام مقرر کرنے کا کوئی سوال نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کوئی مطلق حکم نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک ایسا گروہ جو اپنی الگ اجتماعیت رکھتا ہو۔ اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی اجتماعیت کو دین کی بنیادوں پر منظم کرے۔ اور اپنا ایک سیاسی امیر مقرر کرکے اس کے ماتحت منظم زندگی گزارے۔ سیاسی امامت کسی گروہ کے اجتماعی اختیارات کا ظہور ہے۔ پھر جہاں اجتماعی اختیار پایا جائے وہیں تو اس کے ظہور کی توقع کی جاسکتی ہے۔ جہاں سرے سے اجتماعی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader