Urdu book · تعبیر کی غلطی

اطاعت

Urdu book, p. 384

By Maulana Wahiduddin Khan

اختیار ہی موجود نہ ہو، وہاں اس کا ظہور کیسے ہوگا۔ اور اس قسم کے احکام کی ’’تکلیف‘‘ اس کو کس بنیاد پر دی جائے گی۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم کو آزاد اور مجتمع گروہ کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ تو یہ حیثیت آخر حاصل کس طرح ہوگی۔ مگر یہ سوال دراصل ایک غلط فکری کا نتیجہ ہے۔ اگر اسلامی مشن کا تصور یہ ہو کہ اس کا مقصد دنیا میں حکومت الہیہ کا قیام ہے تو ایسی صورت میں ہر حال میں کام کا آغاز یہی قرار پاتا ہے کہ سیاسی تبدیلی کو نشانہ بنا کر جدوجہد کی جائے اور اس کے لیے ہر ممکن تدبیریں اختیار کی جائیں، لیکن جیسا کہ پچھلی بحثوں سے واضح ہو چکا ہے۔ سیاسی تبدیلی کا معاملہ مشن کی حیثیت سے مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ وہ حالات کے اعتبار سے اطاعت فی الاحکام کے ذیل میں آتا ہے۔ یعنی جس طرح مالیاتی احکام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر مسلمان کا یہی مشن ہونا چاہیے کہ وہ سرمایہ دار بننے کی کوشش کرے تا کہ اپنی زندگی میں مالی احکام کی تعمیل کر سکے ۔ بلکہ یہ احکام صرف اس سوال کا جواب ہیں کہ جو شخص صاحب املاک ہو وہ اپنی ملکیت میں اپنے اختیارات کو کس طرح استعمال کرے۔ اسی طرح سیاسی احکام کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے جس گروہ کے اختیارات سیاست و حکومت تک پھیلے ہوئے ہوں وہ اپنے ان اختیارات کو کس طرح استعمال کریں کہ وہ منشائے الہی کے مطابق قرار پائیں۔ تمام اطاعتی احکام، اختیارات کے صحیح استعمال کو بتانے کے لیے آئے ہیں۔ اس لیے وہ اس وقت اور اسی حد تک کسی کے اوپر عائد ہوتے ہیں جتنا بالفعل کسی کے اندر اختیار پایا جا رہا ہو۔ عام حالات میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان خود اپنے آپ کو عابد اور مطیع بناتے ہوئے انذار و تبشیر کی مہم شروع کریں۔ وہ خدا کے گمراہ بندوں کو خدا کے دین کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ یہ مہم ہر حال میں اپنی موثر ترین شکل میں جاری رکھی جائے گی۔ تا آنکہ کہ اللہ تعالیٰ یا تو اسی راہ میں ہمارا خاتمہ کردے یا ہمارے لیے وہ حالات پیدا کردے جب سارا علاقہ ہماری اطاعت کے تحت آجائے اور ہم کو یہ موقع ملے کہ ہم ان کے اوپر خلافت کا نظام قائم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page