Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 385

By Maulana Wahiduddin Khan

کر سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت و حکومت کو قرآن میں دعوتی تحریک کے نشانے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے ۔ بلکہ اس کو وعدہ اور انعام قرار دیا گیا ہے ۔ شہادت حق اس سلسلے کا دوسرا تقاضا وہ ہے جس کو شہادت یا دعوت الی الاسلام کہا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک پوری طرح پہنچ جائے تا کہ آخرت میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ ہم کو حقیقت کا علم نہیں تھا ۔ اس لیے ہماری گمراہی کی ذمے داری ہمارے اوپر نہیں ہے : رُسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةً بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165) ۔ یعنی ، رسولوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا تا کہ لوگوں کے پاس اللہ کے اوپر کوئی حجت باقی نہ رہے ۔ رسولوں کو بھیجنے کا اولین مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ ” اعلان و اسرار “ کے ذریعہ حق کے پیغام سے لوگوں کو خبردار کر دیں ۔ یہ خدا کی طرف سے آگہی اور پیغام رسانی کا ایک کام ہے ۔ جو اس لیے کیا جاتا ہے کہ کائنات جس اسکیم کے تحت بنائی گئی ہے ۔ اور اس کا بالآخر جو انجام ہونے والا ہے اس سے لوگ مطلع ہو جائیں ۔ جو کچھ غیب میں ہے وہ اس وقت کے آنے سے پہلے لوگوں کے علم میں آ جائے ، جب موجودہ دنیا کی بساط الٹ دی جائے گی اور غیب شہود بن جائے گا ۔ موجودہ زمانے میں بعض لوگ دعوت حق کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کو ایک بہتر اور مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے دنیا کے سامنے لایا جائے ۔ یہ بات اصلا غلط یا قابل ترک نہیں ہے ۔ متکلمانہ حکمت کا تقاضا کسی وقت یہ ہو سکتا ہے کہ اسلام کو ایک بہتر نظام زندگی کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے ۔ مگر یہ یقینی ہے کہ یہ بات صرف متکلمانہ ضرورت کی حد تک صحیح ہے ، اگر اسی کو دعوت اسلامی کا اصل اور حقیقی انداز قرار دیا جائے تو وہ اپنی صداقت کھو دے گی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page