شہادت حق
Urdu book, p. 386
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کو اگر اصلاً بہتر نظام زندگی کی حیثیت سے پیش کیا جانے لگے تو ایسی صورت میں دعوت اسلامی کی حیثیت مخاطب کے ذہن میں یہ بن جائے گی کہ وہ مسائل عالم کو حل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مقصد لوگوں کو معاشی اور سیاسی عذاب سے ڈرانا ہے۔ جب کہ انبیاء کی دعوت کو قرآن میں اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ وہ آسمانی عذاب سے لوگوں کو ڈرانے کے لیے آتے تھے۔ يُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ (40:15)۔ خدا اپنے حکم سے روح کو بھیجتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے تا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔ اس عمل تبلیغ کی انتہائی صورت مدعو کے لحاظ سے تو یہ ہے کہ وہ دعوت کو قبول کر کے اپنی زندگی اس کے مطابق بنالے۔ مگر داعی کے لحاظ سے اس کی انتہائی صورت صرف یہ ہے کہ وہ اپنی بات کو آخری حد تک لوگوں تک پہنچادے۔ وہ حقیقت کو ان کے اوپر اس طرح واضح کر دے کہ پھر اس کے بعد کسی کے عذر اور تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ چنانچہ انبیاء کے لیے اتمام حجت کا جو معیار مقرر کیا گیا، وہ یہی تھا کہ وہ اپنی بات کو پوری طرح لوگوں تک پہنچادیں۔ اس سے آگے انھیں کسی اور چیز کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ وہ تمام قومیں جن کا قرآن میں اس حیثیت سے ذکر ہے کہ انہوں نے انبیاء کے پیغام کو نہیں سنا، اور ان کی نافرمانی کر کے عذاب الہی کے مستحق ہوگئیں، وہ وہی ہیں جن پر نبی نے اپنی تقریروں سے اور گفتگوؤں کے ذریعہ کام کیا تھا۔ بات پہنچانے سے زیادہ کچھ اور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اس حکم کی تعبیر کے لیے جو مختلف الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ سب اطلاع اور آگہی کے معنوں میں ہیں۔ یہاں میں چند آیتیں نقل کرتا ہوں : صدع بالامر فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ (15:95)۔ یعنی، جس چیز کا تمہیں حکم ملا ہے اس کو خوب کھول کر لوگوں کو سنادے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader