Urdu book · تعبیر کی غلطی

شہادت حق

Urdu book, p. 388

By Maulana Wahiduddin Khan

تبلیغ ما انزل اللہ۔ یا اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (5:67)۔ یعنی، اے رسول خدا کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچادے۔ تذکیر بایام اللہ۔ وَذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللہِ (14:5)۔ یعنی، (موسیٰ کو ہم نے بھیجا کہ) لوگوں کو اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ۔ داعی اسی ذہن کے تحت اس کام کا آغاز کرتا ہے۔ وہ ہمدردی اور حق پسندی کے تمام تقاضوں کے ساتھ اپنی بات آخری حد تک لوگوں کو سنا دینا چاہتا ہے۔ اس کے بعد اس مہم کے دوران میں جو واقعات پیش آتے ہیں، ان کا تعلق اصلاًّ تبلیغ سے نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں سے ہے جن کے اوپر شہادت و تبلیغ کا کام کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کوئی ایک صورت متعین نہیں کی جاسکتی، اور نہ اس کی کسی مخصوص مثال کو لازمی طور پر شہادت کی تشریح قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ داعی صرف پکارتے پکارتے مرجائے۔ ہوسکتا ہے کہ وقت کی بعض بڑی شخصیتیں اسلام قبول کرلیں اور ان کے اثر سے خدا کا دین یکا یک پورے علاقے میں پھیل جائے۔ ہوسکتا ہے کہ مخاطبین سے ٹکراؤ ہو اور وہ تنہا یا اقتدار سے مل کر تحریک کو ختم کر دینے کی سازش کریں۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کردے کہ داعی اول یا اس کے بعد آنے والے اس کے ساتھی ملک کے اقتدار پر قابض ہوجائیں۔ پھر اقتدار پر قبضہ کی بھی مختلف صورتیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ محض ایک سیاسی غلبہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک پھیلے اور اتنا بڑا عوامی تعاون حاصل کرلے کہ وہاں ایک منظم سوسائٹی وجود میں آجائے۔ یہ ساری صورتیں ممکن ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کی مثالیں اسلام کی دعوتی جد وجہد کی طویل تاریخ میں موجود ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی صورت شہادتِ حق کی ادائیگی کی واحد یا معیاری صورت نہیں ہے۔ شہادت یا دعوت کی ادائیگی صرف یہ ہے کہ خدا کے پیغام کو حقیقی ’’نصح‘‘ کی تمام شرائط کے ساتھ ’’قول بلیغ‘‘ کی زبان میں لوگوں تک پوری طرح پہنچادیا جائے۔ اور اس پہنچانے میں خواہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیش آئے۔ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے جاری رکھا جائے۔ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page