Urdu book · تعبیر کی غلطی

شہادت حق

Urdu book, p. 389

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد جو کچھ ہوگا، وہ اس جدوجہد کے دنیوی نتائج یا دوسرے لفظوں میں تاریخ دعوت کے واقعات ہیں جو مختلف حالات میں مختلف شکل اختیار کرتے ہیں۔ گویا داعی کی نسبت سے جو کچھ مطلوب ہے وہ صرف یہ کہ خدا کے پیغام کو وہ آخری حد تک پہنچادے اور آخر عمر تک پہنچاتا رہے۔ بقیہ تمام چیزیں دراصل وہ واقعات ہیں جو مدعو کی نسبت سے پیش آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان واقعات کی کوئی ایک لگی بندھی فہرست نہیں بنائی جاسکتی اور نہ ان کی نوعیت کا فرق داعی کے کام کے ناقص یا کامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ انبیاء پہلے اصلاح معاشرہ پر اپنی قوت لگاتے ہیں۔ اور اس کے بعد سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر تقدیم و تاخیر کی یہ بحث میرے نزدیک صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ زیر بحث تعبیر سے آزاد ہو کر سوچ نہ سکے۔ اور اسی کے چوکھٹے میں رہتے ہوئے ایک نئے عنوان سے اپنے عدم اطمینان کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن میں مذکور انبیاء میں آخری رسول کے سوا تین رسول ہیں۔ جن کی زندگی میں بادشاہت اور حکومت جمع ہوئی — حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت یوسف علیہم السلام۔ ان تینوں میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ ان کی حکومت کسی معاشرتی حالات کے تقاضے کے طور پر ابھری تھی۔ یا یہ کہ انہوں نے پہلے معاشرہ کی اصلاح کی اور اس کے بعد حکومت قائم فرمائی۔ اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ غیر اہل اسلام پر جو دعوتی کام کیا جائے گا، اس میں ان کے سامنے بیک وقت سارا دین پیش کرنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے دین کی اصولی تعلیمات انھیں بتائی جائیں۔ خدا کا تصور، رسالت کا تصور اور آخرت کا تصور، یہ وہ چیزیں ہیں جو اولا غیر مسلم مخاطبین کے سامنے رکھی جاتی ہیں اور مسلسل مختلف پہلوؤں سے ان کے سامنے اس کی وضاحت کی جاتی ہے۔ جہاں جہاں ان کا ذہن اٹک رہا ہوتا ہے، اس کو مؤثر استدلال کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ اسے مان لیتے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page