خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اس سلسلے میں امیر جماعت کو جو کچھ لکھا تھا اسے اب بھی پوری طرح معقول ہی سمجھتا ہوں۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے، آپ کو بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ میں نے زیر بحث مسئلے کے بارے میں اپنے خیالات اور دلائل پوری وضاحت سے پیش کر دیے ہیں۔ اس لیے مزید رد و قدح کی کوئی سعی کچھ مفید نہ ہوگی، میں اپنے پیش کردہ خیالات اور دلائل پر اب بھی اسی طرح مطمئن ہوں جیسا کہ پہلے تھا، لیکن آپ کو ان کے اندر کوئی خاص وزن محسوس نہیں ہوتا تو قدرتی طور پر بات ختم ہو جانی چاہیے ۔ میرے علم و فہم کی جو رسائی تھی اس کا نتیجہ آپ کے سامنے آچکا ہے، اس میں کوئی بات آپ کے کام کی ہو تو اچھی بات ہے، ورنہ اسے نظر انداز کر۔ پچھلے دنوں یہ معلوم کر کے مجھے بڑا افسوس ہوا کہ میرے نام کا ایک خط جو امیر جماعت نے مجھے بھیجا تھا اور آپ کی دوسری تحریر کے ساتھ میں نے لفافے کے اندر رکھ چھوڑا تھا آپ کے پاس پہنچ گیا ہے اور یہ صورت حال غالباً اس وجہ سے پیدا ہوگئی کہ میں آپ کی تحریر واپس کرتے وقت لفافے کے اندر سے وہ خط نکالنا بھول گیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ کو شاید اس بات کا خیال نہیں رہا کہ کسی غیر کے خط کو لے کر رکھ لینا کوئی صحیح بات نہیں ۔ چہ جائیکہ اس کو پڑھ بھی لیا جائے، اور پھر متعلقہ شخص کو نہ واپس کیا جائے نہ اس کی اطلاع دی جائے۔ بہر حال اب میری گزارش یہ ہے کہ اس خط کو برائے کرم اب بھی واپس دے دیجیے ۔ آپ نے اپنی دوسری مختصر تحریر اس وعدے کے ساتھ واپس لے لی تھی کہ اسے پھر سے مرتب کر کے بھیج دیں گے ، اس وعدے کو پورا کیے جانے کا انتظار ہے۔ والسلام صدرالدین ☙❦❧ اعظم گڑھ 15 نومبر 1962ء محترمی ! مولا نا صدرالدین صاحب سلام مسنون آپ کا خط مورخہ 12 نومبر 1962ء ملا، آپ نے لکھا ہے : ”میں نے زیر بحث مسئلے کے بارے میں اپنے خیالات اور دلائل پوری وضاحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader