شہادت حق
Urdu book, p. 390
By Maulana Wahiduddin Khan
تو انھیں ان احکام کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔ صحیحین کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ کو یمن کی طرف دعوتی مشن پر بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب کے ایک گروہ سے ملوگے تو انھیں سب سے پہلے کلمہ توحید کی طرف بلانا: فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 1395 ، صحیح مسلم حدیث نمبر 19) ۔ جب وہ اس کو مان لیں تو اس کے بعد انھیں نماز اور دیگر اعمال شریعت کی تعلیم دینا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء اپنے ابتدائی دعوتی مرحلہ میں صرف بنیادی تعلیمات لے کر آتے تھے۔ اور عرصہ دراز تک اس کی تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ اس کے بعد جیسے جیسے عملی حالات پیدا ہوتے تھے، اس کے مطابق تفصیلی ہدایات نازل کی جاتی تھیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی جب کسی قوم کے پاس آیا تو اس نے پہلے ہی مرحلہ میں ایک پورا سماجی اور تمدنی نظام مرتب کر کے ان کے سامنے رکھ دیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ اسلامی سٹیٹ قائم کر کے تم ان تمام قوانین کو زندگی کے سارے شعبوں میں نافذ کرو۔ 3۔ اس سلسلے کا تیسرا تقاضا وہ ہے، جو مسلمانوں کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ امت مسلمہ کے افراد کے اندر اللہ تعالیٰ یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں۔ وہ صرف اپنی ذات کے لیے نہ جئیں بلکہ جن مسلمانوں کے درمیان وہ رہ رہے ہیں، ان کی ہدایت اور فلاح کے لیے بھی مسلسل کوشش کر رہے ہوں۔ جس طرح ہم پیشہ افراد کے ایک گروہ کا باہمی تعلق ٹریڈ یونین کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اسی طرح عبادت گزار بندوں کا مشترک جذبۂ عبودیت انھیں مجبور کرتا ہے۔ کہ وہ باہم متحد ہوں اور ایک دوسرے کی اصلاح و ترقی کے لیے کمر بستہ رہیں۔ اس حکم کی تعمیل کے دو درجے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی۔ انفرادی حیثیت سے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی طاقت اور صلاحیت کے مطابق دوسرے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے سرگرم رہے۔ بائبل کے الفاظ میں ”وہ اپنے بھائی کا رکھوالا بن جائے“۔ (پیدائش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader