Urdu book · تعبیر کی غلطی

شہادت حق

Urdu book, p. 391

By Maulana Wahiduddin Khan

(4:9 یہی وہ چیز ہے کہ جس کو حدیث میں ”الدِّينُ النَّصيحةُ“ کہا گیا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 55)۔ یعنی ، دین کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں۔ حضرت جریر بن عبد اللہ سے اسلام قبول کرتے وقت آپ نے جو عہد لیا تھا، اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں: عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 529) یعنی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں پر بیعت کی، نماز کی اقامت، زکوۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کی خیر خواہی۔ اسی کو دوسرے الفاظ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہا گیا ہے۔ امام نووی لکھتے ہیں: قد تَطَابَقَ على وجوبِ الأَمْرِ بالمعروفِ والنَّهْيِ عَنِ المُنْكَرِ الكِتَابُ والسُّنَّةُ وإجماعُ الأُمَّةِ، وهو أيضاً مِنَ النَّصيحَةِ التي هي من الدِّين (شرح النووی علی صحیح مسلم، جلد 2 ، صفحہ 22) ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے واجب ہونے پر کتاب و سنت اور اجماع سب کا اتفاق ہے۔ دین کو خیر خواہی کہا گیا ہے، اور امر بالمعروف، نہی عن المنکر اسی خیر خواہی کا نام ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کو سورۃ عصر میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کی نسبت سے بندۂ مومن کے ظاہر ہونے والے جذ بہ عبودیت کو ” باہم حق وصبر کی نصیحت‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس کے دواہم پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔ اس عمل کا ایک رخ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جو کچھ چاہتا ہے، اس کی طرف ہم اللہ سے ایمان و اسلام کا معاہدہ کرنے والوں کو راغب کریں۔ اور دوسرے یہ کہ مرضی رب پر قائم ہونے کے سلسلے میں اس مادی دنیا میں جور کاوٹیں پیش آتی ہیں، ان کا مقابلہ کرنے اور مشکلات کے باوجود مرضی رب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page