Urdu book · تعبیر کی غلطی

شہادت حق

Urdu book, p. 392

By Maulana Wahiduddin Khan

پر جمے رہنے کی طاقت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ایک مفسران دونوں پہلوؤں کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: {وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ} الخ، بیان لتکمیلہم لغیرهم، أي وَصَّى بعضُهم بعضاً بالأمر الثابتِ الذي لا سبيل إلى إنكاره، ولا زوالَ في الدارين لمحاسنِ آثاره، وهو الخيرُ كُلُّه من الإيمانِ بالله عز وجل، واتباعِ كتبه ورسله في كلِّ عقْدٍ وعملٍ، {وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ}، أي عن المعاصى التي تشتاق إليها النفسُ بحكمِ الجِبِلَّةِ البشرية، وعلى الطاعاتِ التي يشقُّ عليها أداؤها، أو على ما يَبتلو الله عز وجل به عباده۔ (تفسیر ابی السعود، جلد 9، صفحہ 197)۔ یعنی، تواصی بالحق کا مطلب اپنے دوسرے اہلِ ایمان کی بھلائی چاہنا ہے۔ یعنی باہم ایک دوسرے کو احکام الٰہی کی تلقین۔ ایسے احکام کی جن سے انکار ممکن نہیں ہے اور جس کے محاسن دونوں جہان میں باقی رہنے والے ہیں۔ اور اس سے مراد وہ سارا خیر ہے جو ایمان باللہ اور تمام معاملات میں اتباع کتب ورسل میں پوشیدہ ہے۔ تواصی بالصبر کا مطلب ان گناہوں سے ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش ہے، جن کی طرف انسان کا نفس بشری تقاضوں کے تحت مائل ہوتا ہے اور ایسے احکام کی تعمیل پر آمادہ کرنا جن کی ادائیگی شاق ہوتی ہے۔ یا ان چیزوں پر صبر کی تلقین جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ اس کے بعد تواصی کے لیے حق وصبر کی حکمت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: لأنَّ الأوَّلَ عبارَةٌ عَن رُتْبَةِ العِبَادَةِ الَّتِي هِيَ فِعْلُ مَا يَرْضَى بِهِ اللَّهُ تَعَالَى، وَالثَّانِي عَنْ رُتْبَةِ العُبُودِيَّةِ الَّتِي هِيَ الرِّضَا بِمَا فَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى (تفسیر أبی السعود، جلد 9، صفحہ 197)۔ یعنی، اس لیے کہ ”حق“ عبادت کا یہ درجہ ہے کہ بندہ وہ کچھ کرے جو اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور ”صبر“ عبادت کا یہ درجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آئے اس پر بندہ بالکل راضی رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page