شہادت حق
Urdu book, p. 393
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعی حیثیت سے اس فرض کی ادائیگی کا معاملہ امت کے اجتماعی حالات پر موقوف ہے۔ اگر امت مسلمہ آزاد اور با اختیار حیثیت کی حامل ہو تو اس کا فرض ہے کہ اپنے میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کر کے انھیں اس بات کا اختیار دے کہ وہ لوگوں کے اوپر شریعت کے احکام کو ضابطہ نافذ کریں۔ اس اصول کی ایک تعمیل وہ تھی جب حضرت موسی علیہ السلام نے صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں میں تقسیم کر کے ان کے اوپر بارہ نقیب مقرر کیے۔ لیکن اگر اس انتہائی شکل کے مواقع حاصل نہ ہوں، تو پھر اس سے کمتر درجہ میں انھیں چاہیے کہ اپنے اوپر کچھ معلم اور مبلغ مقرر کرلیں، جیسا کہ ہجرت سے پہلے مدینہ کے انصار کے سلسلے میں اختیار کیا گیا تھا۔ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر جب مدینہ کے پچھتر اشخاص (73 مرد، 2 عورتیں) نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تو اس وقت آپ نے ان سے کہا کہ تم لوگ اپنے اوپر بارہ نقیب مقرر کر لو۔ چنانچہ انہوں نے اپنے میں سے ایسے بارہ آدمی منتخب کیے جن میں سے تین قبیلہ اوس سے تھے اور نو قبیلہ خزرج سے۔ اس کے بعد آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: اِنۡتُمۡ کُفَلَاءُ عَلٰی قَوۡمِکُمۡ (الطبقات الکبری لابن سعد، جلد 3، صفحہ 557)۔ یعنی، تم مومنین مدینہ کے اوپر نگرار اور ذمہ دار ہو۔ اسی قسم کی امارت حضرت جعفر کی بھی تھی جو حبش کے مہاجرین کے اوپر امیر مقرر ہوئے تھے (ملاحظہ ہو، سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 337)۔ اسی طرح دار الاسلام سے نکل کر مسلمان دنیا کے جن علاقوں میں پھیلے، ہر جگہ انہوں نے اپنی ایک تنظیم بنانے کی کوشش کی۔ خود اسلامی زندگی گزارنے اور دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ جس چیز کی انہوں نے خاص طور پر کوشش کی وہ یہی تھا کہ وہ منظم ہوں اور ایک سربراہ کے تحت اپنے شرعی فرائض کو انجام دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader