Urdu book · تعبیر کی غلطی

نصرت دین

Urdu book, p. 394

By Maulana Wahiduddin Khan

نصرت دین عبد اور معبود کے تعلق کا آخری تقاضا وہ ہے، جس کو ”نصرت دین“ کہا جاتا ہے۔ نصرت دین دراصل اللہ تعالیٰ کی کسی دبی ہوئی بات کو دوبارہ ابھارنے اور زندہ کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ اسی لیے اس کو شریعت میں ”اعلاء کلمۃ اللہ“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک مختلف الجهات عمل ہے جس کی کوئی ایک صورت نہیں ہے۔ ہر بار جب خدا کے دین پر کوئی آنچ آئے۔ جب اس کے بقا و تحفظ اور تجدید و احیا کے لیے کسی پہلو سے انسانی مدد کی ضرورت ہو، اس وقت اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو خدا کے دین کے لیے صرف کرنے کا نام نصرت دین ہے۔ انسانی جذبات میں سے ایک اعلیٰ ترین جذبہ یہ ہے کہ آدمی کو جس سے تعلق خاطر ہوتا ہے اس کے نفع و نقصان کا اس کو بہت خیال ہو جاتا ہے۔ کوئی شریف آدمی کبھی یہ گوارا نہیں کر سکتا کہ جس سے اسے تعلق ہے، اس کے کسی نقصان کو جانتے بوجھتے برداشت کرلے، یہی جذبہ جب بندے کی طرف سے اپنے معبود کے لیے ظاہر ہو تو اسی کو نصرت دین کہتے ہیں۔ عرب میں جب آخری رسول کے مخالفین نے آپ کو اور آپ کی دعوت کو ختم کر دینے کی سازش کی اور اس کے مقابلے میں صحابہ کرام نبی کے ساتھ اپنی جان و مال کو لے کر جہاد پر اٹھ کھڑے ہوئے تو یہ نصرت دین کی پہلی اور اعلیٰ ترین مثال تھی۔ خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب اپنی زندگی کو قربان کر کے اسلامی حکومت کے بگاڑ کو درست کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ ان کوششوں کے صلہ میں انھیں شاہی خاندان کی طرف سے زہر دے دیا گیا۔ تو یہ بھی نصرت دین کی ایک شکل تھی۔ دوسری صدی ہجری میں جب دولت و سلطنت نے اسلامی معاشرہ میں عیش پسندی پیدا کر دی اور اس کے نتیجے میں ایمانی کمزوری اور تعلق باللہ میں اضمحلال کی وبا پھیل گئی۔ اس وقت حسن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page