Urdu book · تعبیر کی غلطی

نصرت دین

Urdu book, p. 395

By Maulana Wahiduddin Khan

بصری نے ہمہ تن فقر اور سوز کی تصویر بن کر امت کے تن مردہ میں جان ڈالنے کی کوششیں کیں تو یہ بھی نصرت دین تھی۔ پھر مسلم سوسائٹی میں یونانی فلسفہ کی درآمد سے جب عقائد میں رخنہ پیدا ہونے لگا اور اس نے خلق قرآن کے فتنے کی صورت اختیار کی، اس وقت امام احمد بن حنبل نے سینہ سپر ہو کر حق کی حفاظت کی تو یہ بھی نصرت دین تھی۔ چھٹی صدی ہجری میں جب یورپن قوموں نے اسلامی سلطنت پر حملہ کر دیا اور انگریز مورخ سینٹلے لین پول کے الفاظ میں اس کے اندر "اس طرح گھسے جیسے کوئی پرانی لکڑی میں پنچّر ٹھونکے،" اس وقت صلاح الدین ایوبی نے اپنے زبردست جذبہ ایمانی اور بے پناہ جرات سے کام لے کر سفید اقوام کے ظلم اور استیلا سے اسلامی سلطنت کو پاک کیا، تو یہ بھی نصرت دین تھی۔ اسی طرح امام ابو الحسن اشعری، امام غزالی، شیخ عبد القادر جیلانی، علامہ ابن جوزی، شیخ الاسلام عز الدین ابن تیمیہ، شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ، سید احمد بریلوی اور دوسرے بے شمار علما و صلحا اور اصحاب عزیمت نے اپنے اپنے وقت میں دین کی ضرورتوں کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا۔ اور دین کو جس مدد کی ضرورت تھی اس میں اپنی قوتوں کو آخری حد تک صرف کر دیا۔ یہ سب کے سب دین کے ناصر اور اس کے مددگار تھے اور ان میں سے ہر ایک کا اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا درجہ ہے۔ جس طرح وقت کی ضرورت کے لحاظ سے یہ متعین ہوتا ہے کہ آج خدا کے دین کو کس قسم کی نصرت درکار ہے۔ اسی طرح ناصرین کی اپنی قوت و استعداد کے لحاظ سے یہ متعین ہوتا ہے کہ اس موقع پر خدا کا دین ان سے کس چیز کا تقاضا کر رہا ہے۔ ہر شخص اس چیز کو دینے کا مکلف ہے جو اس کے پاس ہے۔ جس کے پاس زبان اور علم کی طاقت ہے، وہ اپنے زبان اور علم کے ذریعہ خدا کے دین کی مدد کرے گا۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ نے قوت و طاقت کے خارجی ذرائع بھی دیے ہوں وہ ان خارجی ذرائع کو خدا کے دین کی ضرورت پورا کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ یہاں میں شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلام (660-578ھ) کے الفاظ نقل کروں گا: قد أَمَرَنَا اللهُ بِالْجِهَادِ فِي نُصْرَةِ دِينِهِ، إِلَّا أَنَّ سِلَاحَ العَالِمِ عِلْمُهُ ولسانُهُ، كما آنَّ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page