Urdu book · تعبیر کی غلطی

تقابل

Urdu book, p. 397

By Maulana Wahiduddin Khan

تقابل او پر میں نے جو اسلام کی تشریح کی ہے، اس کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ دین کی اصل حقیقت اور اس کا ظاہری ڈھانچہ دونوں اس میں اپنا صحیح مقام پا لیتے ہیں اور کوئی بھی مجروح نہیں ہوتا اور نہ اپنی واقعی حیثیت کو کھوتا۔ جب کہ زیر بحث تشریح میں ایسا نہیں ہے۔ اس فرق کو میں چند مثالوں سے واضح کروں گا۔ نماز کی مثال زیر بحث تعبیر کے مطابق دنیا میں مومن کو جو کام کرنا ہے، وہ یہ کہ خدا کے قانون کی حکومت قائم کرے۔ اس لیے قدرتی طور پر دین کے تمام اجزاء اسی اصل کا ضمیمہ بن جاتے ہیں۔ اور نماز کی حیثیت یہ ہو جاتی ہے کہ وہ ایک طرح کا ٹریننگ کورس ہے، جس کے ذریعہ اسلامی انقلاب کے سپاہی تیار کیے جاتے ہیں، ”اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر“ نامی کتاب میں نماز کو ”فرد کی تیاری کا پروگرام“ بتایا گیا ہے جس کے پانچ حصے ہیں: 1۔ آدمی کے ذہن میں اس حقیقت کے ادراک کو تازہ رکھنا کہ وہ دنیا میں ایک خود مختار وجود نہیں ہے۔ بلکہ رب العالمین کا بندہ ہے۔ اور یہاں اسی حیثیت سے اس کو کام کرنا ہے۔ 2۔ بندہ کی حیثیت سے اسے فرض شناس بنانا، اور اس میں ادائے فرض کی عادت پیدا کرنا۔ 3۔ فرض شناس اور نافرض شناس میں تمیز کرنا اور نافرض شناس افراد کو چھانٹ کر الگ کر دینا۔ 4۔ خیالات کا ایک پورا نظام، ایک پوری آئیڈیالوجی آدمی کے ذہن میں اتار دینا اور اس کو ایسا مستحکم کرنا کہ ایک پختہ سیرت بن جائے۔ 5۔ آدمی میں یہ قوت پیدا کرنا کہ اپنے عقیدے اور اپنے علم و بصیرت کے مطابق جس طرزِ عمل کو صحیح سمجھتا ہو اس پر عمل کر سکے۔ اور اپنے نفس و جسم کی تمام طاقتوں سے اس راہ میں کام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page