تقابل
Urdu book, p. 398
By Maulana Wahiduddin Khan
لے سکے۔ نماز کے ساتھ جماعت کی شرط لگانے کا مقصد انھیں مقاصد کو اجتماعی سطح پر پیدا کرنا ہے۔ کیوں کہ: ”مسلمان کے لیے یہ دنیا سخت جدوجہد، مقابلہ اور کش مکش کا معرکہ کار زار ہے۔ یہاں خدا سے بغاوت کرنے والوں کے بڑے بڑے جتھے بنے ہوئے ہیں۔ جو انسانی زندگی میں خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کو پوری قوت کے ساتھ جاری کر رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں مسلمان پر یہ ذمہ داری — بھاری کمر توڑ دینے والی ذمہ داری — ڈالی گئی ہے کہ یہاں خدا کے قانون کو پھیلائے اور جاری کرے۔ انسان کے بنائے ہوئے قوانین جہاں جہاں چل رہے ہیں انھیں مٹائے۔ اور ان کی جگہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کے قانون کا نظام زندگی قائم کیا جائے۔ یہ زبردست خدمت جو اللہ نے مسلمانوں کے سپرد کی ہے۔ اس کو اللہ کے باغی جتھوں کے مقابلے میں کوئی اکیلا مسلمان انجام نہیں دے سکتا۔ اگر کروڑوں مسلمان بھی دنیا میں موجود ہوں ۔ مگر الگ الگ رہ کر انفرادی کوشش کریں، تب بھی وہ مخالفین کی منظم طاقت کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ وہ سارے بندے جو خدا کی عبادت کرنا چاہتے ہیں ایک جتھا بنیں ۔ اور مل کر اپنے مقصد کے لیے جد و جہد کریں۔ نماز انفرادی سیرت کی تعمیر کے ساتھ یہ کام بھی کرتی ہے۔ وہ اس اجتماعی نظام کا پورا ڈھانچہ بناتی ہے۔ اس کو قائم کرتی ہے اور قائم رکھتی ہے۔ اور اسے روزانہ پانچ مرتبہ حرکت میں لاتی ہے۔ تا کہ وہ ایک مشین کی طرح چلتا رہے۔“ (اسلامی عبادات پر تحقیق نظر، صفحات 45-41) نماز کی اس تشریح میں جو فائدے بتائے گئے ہیں وہ کلیتاً غلط نہیں ہیں۔ مگر اس تشریح میں اصل بات غائب ہوگئی۔ نماز کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ خدا کی یاد ہے: وَأَقِمِ الصَّلَوةَ لِذِكْرِي (2:14) ۔ وہ خدا کے آگے جھکنا اور اپنے احساسات کی قربانی پیش کرنا ہے : اَلَّذِينَ هُمْ فِي

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader