Urdu book · تعبیر کی غلطی

تقابل

Urdu book, p. 399

By Maulana Wahiduddin Khan

صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (23:2) ۔ وہ بندے کو ایک ایسے مقام پر پہنچانے کا ذریعہ ہے جہاں بندہ خدا سے سرگوشی کرنے لگتا ہے : إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ (مسند احمد، حدیث نمبر (14099 نماز خدا سے ربط قائم کر کے اس سے دعاء واستعانت کا نام ہے: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَوةِ (2:45) ۔ نماز میں مشغول رہ کر بندہ اپنے رب سے قرب کا تجربہ حاصل کرتا ہے۔ جو مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے: وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب (96:19) ۔ مگر زیر بحث انقلابی تصور کے خانے میں یہ چیزیں کہیں بیٹھ نہیں رہی تھیں، انقلابی مشن سے ان کا کوئی جوڑ نہیں بنتا تھا۔ اس لیے نماز پر تحقیقی نظر ڈالنے کے باوجود نماز کا یہ اصل پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ اس کی تصویر میں یہ رخ اس طرح غائب ہو گیا جیسے کوئی کیمرہ مین پیچھے سے فوٹو لے رہا ہو تو اس کے فوٹو میں آدمی کی پیٹھ اور دوسرے پچھلے حصے تو دکھائی دیں گے مگر اس کا چہرہ اور اس کے آگے کا تمام وجود اس کی لی ہوئی تصویر میں نہیں آئے گا۔ جہاں تک ان دوسری خصوصیات کا تعلق ہے جن کا اوپر اقتباس میں ذکر ہے، وہ حقیقی نماز کے ثمرات ہیں جو آپ سے آپ نماز کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ خدا سے کسی بندہ کا تعلق جڑنا دراصل ساری حقیقتوں کا اپنی صحیح ترین شکل میں باہم مل جانا ہے۔ اور جب حقیقتیں اپنی صحیح ترین شکل میں باہم مل جائیں تو اسی سے وہ تمام چیزیں پیدا ہوتی ہیں جن کو ہم خوبی یا صفات محمودہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کیوں کہ تمام خوبیاں دراصل حقیقتوں کے اتصال ہی کے لازمی نتائج ہیں۔ الیکٹرک فلر بلب کو روشن نہیں کرتا اور نہ پنکھے کو چلاتا، وہ صرف یہ کرتا ہے کہ ان چیزوں کا تعلق پا ر ہاؤس سے جوڑ دیتا ہے۔ اس جوڑنے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ تمام چیزیں اپنی اپنی جگہ روشن اور متحرک ہو جاتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page