خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
سے پیش کر دیے ہیں، اس لیے مزید رد و قدح کی کوئی سعی مفید نہ ہوگی۔“ میں افسوس کے ساتھ عرض کروں گا کہ یہ اس اصل بات کا جواب نہیں ہے۔ جس کے لیے میں نے آپ کو خط لکھنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ میں نے دراصل آپ کی اس بات کے متعلق دریافت کیا تھا، جو اس سے پہلے مجھے امیر جماعت کی وساطت سے پہنچی تھی، مگر اس کا جواب دینے کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ اپنا موقف بدل کر دوسری بات کہہ دی۔ مسئلہ یہ تھا کہ میں نے چاہا تھا کہ آپ کی تحریر کے بارے میں میرا جو تبصرہ ہے آپ دوبارہ اس پر اظہار خیال فرمائیں۔ اس کے جواب میں مجھے امیر جماعت کا خط مورخہ 13 اکتوبر ملا جس میں مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ آپ کے نزدیک میرے تبصرہ کا”طرز“ مناسب نہیں ہے، اس لیے آپ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ اپنا 20 اکتوبر کا خط میں نے اسی سلسلے میں آپ کی خدمت میں روانہ کیا تھا اور اس میں مثال کے طور پر اپنے تبصرہ کے ایک حصے کو یاد دلاتے ہوئے آپ سے دریافت کیا تھا کہ مجھے بتائیں کہ اس میں وہ کون سا”طرز“ ہے، جس نے میری اس تحریر کو آپ کے لیے نا قابل التفات بنا دیا ہے۔ اس کے جواب میں آپ کو چاہیے تھا کہ میرے تبصرہ کے محولہ ٹکڑے کا تجزیہ کر کے بتاتے کہ دیکھو اس کے ”طرز“ میں فلاں غلطی پائی جاتی ہے، اس لیے میں اس پر اظہار خیال کرنے سے معذور ہوں۔ اس کے بجائے آپ نے ایک اور بات فرمادی۔ یہ کہ ” آپ کو جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے ہیں اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔“ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اپنے اس خط میں اصل مسئلہ کے بارے میں تو آپ نے ایک لفظ نہیں لکھا، البتہ امیر جماعت کے خط کے سلسلے میں ایک قانونی نکتہ نکال کر اس کے بارے میں سات سطریں لکھ ڈالیں، حالانکہ آپ کا یہ اعتراض بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص سے مجھے یہ شکایت ہو کہ وہ میرے بارے میں نامناسب رویہ اختیار کر رہا ہے، مگر وہ اسے تسلیم نہ کرتا ہو۔ اس کے بعد اتفاق سے متعلقہ مسئلہ پر اس کی ایک دستخط شدہ تحریر مجھ تک پہنچ جائے، اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader