تقابل
Urdu book, p. 400
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے ۔ انسان محض ایک بے جان مشین نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک شعوری وجود ہے۔ اس لیے جب وہ خدا سے تعلق قائم کرتا ہے تو یہ تعلق لازمی طور پر اس کے شعور کو بیدار کرتا ہے، اور وہ اس سے کچھ چیزوں کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ اس سے کہتا ہے کہ جس خدا سے تم ڈرتے ہو، جس سے تم محبت کرتے ہو، جس سے قریب ہونے کی تمہارے اندر انتہائی آرزو ہے، تم اپنی عملی سرگرمیوں میں اسے بھلا نہیں سکتے۔ عملی سرگرمیوں میں اگر خدا تمہیں یاد نہ رہتا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد میں بھی خدا تم کو یاد نہیں آیا۔ کیوں کہ ممکن نہیں کہ ایک جگہ خدا یاد رہے اور دوسری جگہ خدا بھول جائے۔ نفسیات کی سطح پر اگر خدا کسی کو ملا ہے۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی عملی زندگی خدا کی یافت سے محروم ہو۔ وہ لازماً اپنے ظاہری اعمال کو بھی مطلوباتِ الہی سے اسی طرح پر نور کرے گا جس طرح اس کا اندرونی وجود خدا سے منور ہوا ہے۔ دنیا میں اس کی زندگی جن جن نسبتوں سے متعلق ہوگی، ان تمام نسبتوں میں لازمی طور پر اس کا تعلق باللہ ظاہر ہوتا چلا جائے گا۔ اس طرح اس تعبیر میں بعض ثمرات و نتائج (جو دراصل اضافی ہیں ۔ کیوں کہ آدمی اگر کسی جزیرے میں تنہا ہو تو وہاں اس قسم کی انقلابی تربیت کی کوئی ضرورت نہیں) اس طرح نمایاں ہو کر سامنے آگئے گویا یہی اصل ہیں۔ اور جو اصل پہلو تھا وہ سرے سے اس تصویر میں اوجھل ہو کر رہ گیا۔ 2۔ اس سلسلے کی دوسری بات یہ ہے کہ یہ تعبیر کسی ٹکراؤ کے بغیر پورے دین سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ جب کہ زیر بحث تعبیر کو دینی ڈھانچہ میں اختلال پیدا کیے بغیر اس کے اندر اسے فٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی ایک مثال اس تعبیر کا ” عملی شہادت“ کا مخصوص نظریہ ہے جس کو صرف اس لیے ایجاد کرنے کی ضرورت پیش آئی کہ اس کے بغیر اس تعبیر سے متاثر ذہن اس کام کو سمجھ نہیں سکتا تھا جس کو شہادت یا دعوت وتبلیغ کے عنوان کے تحت ہمارے اوپر فرض کیا گیا ہے۔ عملی شہادت کا یہ نظریہ جس کا اوپر حوالہ دیا گیا۔ وہ یہ ہے کہ شہادت کے کام کے دواجزاء ہیں ۔ ایک ”قولی شہادت“ دوسرے ”عملی شہادت“ قولی شہادت زبان و قلم سے دین کی دعوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader