تقابل
Urdu book, p. 401
By Maulana Wahiduddin Khan
پیش کرنے کا نام ہے۔ مگر صرف زبانی تبلیغ شہادت کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ: ’’ہم اپنی زندگی میں ان اصولوں کا عملاً مظاہرہ کریں جن کو ہم حق کہتے ہیں۔ دنیا صرف ہماری زبان ہی سے ان کی صداقت کا ذکر نہ سنے، بلکہ خود اپنی آنکھوں سے ہماری زندگی میں ان کی خوبیوں اور برکتوں کا مشاہدہ کرلے۔ وہ ہمارے برتاؤ میں اس شیرینی کا ذائقہ چکھ لے۔ جو ایمان کی حلاوت سے انسان کے اخلاق ومعاملات میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ خود دیکھ لے کہ اس دین کی رہنمائی میں کیسے اچھے انسان بنتے ہیں، کیسی عادل سوسائٹی تیار ہوتی ہے۔ کیسی صالح معاشرت وجود میں آتی ہے، کس قدر ستھرا اور پاکیزہ تمدن پیدا ہوتا ہے، کیسے صحیح خطوط پر علوم وادب اور فنون کا نشوونما ہوتا ہے۔ کیسا منصفانہ، ہمدردانہ اور بے بضاع معاشی تعاون رونما ہوتا ہے۔ اور انفرادی واجتماعی زندگی کا ہر پہلو کس طرح سدھر جاتا ہے، سنور جاتا ہے اور بھلائیوں سے مالامال ہو جاتا ہے۔ اس شہادت کا حق اس طرح ادا ہو سکتا ہے کہ ہم فرداً فرداً بھی اور قومی حیثیت سے بھی اپنے دین کی حقانیت پر مجسم شہادت بن جائیں۔ ہمارے افراد کا کردار اس کی صداقت کا ثبوت دے۔ ہمارے گھر اس کی خوشبو سے مہکیں اور ہماری دکانیں اور کارخانے اس کی روشنی سے جگمگائیں، ہمارے ادارے اور ہمارے مدرسے اس کے نور سے منور ہوں، ہمارا لٹریچر اور ہماری صحافت اس کی خوبیوں کی سند پیش کرے۔ ہماری قومی پالیسی اور اجتماعی سعی و جہد اس کے برحق ہونے کی روشن دلیل ہو۔ غرض ہم سے جہاں اور جس حیثیت میں بھی کسی شخص یا قوم کو سابقہ پیش آئے، وہ ہماری شخصی اور قومی کردار میں اس بات کا ثبوت پالے کہ جن اصولوں کو ہم حق کہتے ہیں وہ واقعی حق ہیں۔ اور ان سے فی الواقع انسانی زندگی اصلح اور اعلیٰ اور ارفع ہو جاتی ہے۔‘‘ ’’اس شہادت کی تکمیل اگر ہوسکتی ہے تو صرف اس وقت جب کہ ایک اسٹیٹ انھیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader