تقابل
Urdu book, p. 402
By Maulana Wahiduddin Khan
اصولوں پر قائم ہو جائے ۔ اور وہ پورے دین کو عمل میں لا کر اپنے عدل و انصاف سے، اپنے اصلاحی پروگرام اور اپنے حسن انتظام سے، اپنے باشندوں کی فلاح و بہبود سے، اپنے حکمرانوں کی نیک سیرت سے، اپنی صالح داخلی سیاست سے، اپنی راستبازانہ خارجی پالیسی سے، اپنی شریفانہ جنگ سے اور اپنی وفادارانہ صلح سے ساری دنیا میں اس بات کی شہادت دے کہ جس دین نے اس اسٹیٹ کو جنم دیا ہے وہ درحقیقت انسانی فلاح کا ضامن ہے اور اسی کی پیروی میں نوع انسانی کی بھلائی ہے۔ یہ شہادت جب قولی شہادت کے ساتھ مل جائے ۔ تب وہ ذمے داری پوری طرح ادا ہو جاتی ہے جو امت مسلمہ پر ڈالی گئی ہے۔ تب نوع انسانی پر بالکل اتمام حجت ہو جاتا ہے۔ اور تب ہماری امت اس قابل ہوسکتی ہے کہ آخرت کی عدالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کھڑی ہو کر شہادت دے سکے کہ جو کچھ حضور نے ہم کو پہنچایا تھا وہ ہم نے لوگوں تک پہنچا دیا اور اس پر بھی جو لوگ راہ راست پر نہ آئے وہ اپنی کج روی کے خود ذمہ دار ہیں۔‘‘ (شہادت حق) بظاہر شہادت حق کی یہ تعبیر بہت دلکش معلوم ہوتی ہے۔ مگر مجھے یہ کہنے کے لیے معاف کیجیے کہ یہ نہ صرف شاعری ہے، بلکہ یہ خدا اور اس کے تمام رسولوں پر زبردست الزام بھی ہے۔ اگر شہادت حق یہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی رسول نے شہادت کا حق ادا نہیں کیا۔ کیوں کہ یہ تشریح شہادت کی”پوری طرح“ ادائیگی کے لیے اس بات کو ضروری قرار دیتی ہے کہ ”پورے دین کو عمل میں لا کر“ ان تمام احکام و ہدایات کا مکمل عملی مظاہرہ کیا جائے، جو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی معاملات حتی کہ بین الاقوامی مسائل تک کے لیے خدا کی شریعت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader