Urdu book · تعبیر کی غلطی

تقابل

Urdu book, p. 403

By Maulana Wahiduddin Khan

موجود ہیں ۔ ۷ ان معنوں میں معلوم انبیاء میں سے کسی ایک نے بھی اپنی قوم پر حجت تمام نہیں کی۔ اس کے برعکس ، قرآن میں دیکھتے ہیں کہ دور دعوت میں جب کہ اہل حق ابھی مظلوم ہیں اور صرف زبانی طور پر اپنا پیغام سنا رہے ہیں ۔ اسی وقت محض اس تبلیغ لسانی کی بنیاد پر منکرین دعوت کو یہ تنبیہ دے دی گئی کہ اگر تم اپنے انکار کی روش پر قائم رہے تو یقیناً تم عذاب کے مستحق ہوجاؤگے (ہود ، 3: 11)۔ اب اگر تکمیل شہادت اور اتمام حجت کے لیے پورے دین کو عملاً بروئے کار لاکر دکھانا ضروری ہو تو اس قبل از وقت تنبیہ کے کوئی معنی نہیں ہوسکتے۔ پھر یہی قولی تبلیغ ہے جس کے بعد ہجرت کا واقعہ پیش آتا ہے ۔ جو منکرین دعوت کے خلاف اعلان براءت ہے۔ نبی ہجرت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس نے اپنی امت دعوت پر اس حق کی شہادت دے دی جس کے لیے وہ بھیجا گیا تھا۔ مگر یہ ہجرت کسی عملی شہادت کے بعد نہیں ہوتی۔ مذکورہ بالا قسم کی عملی شہادت تو اسی وقت ممکن ہے جب زیر تبلیغ علاقے میں اجتماعی معاملات کا اختیار نبی کے ہاتھ میں آگیا ہو۔ اگر ایسا ہو جاتا تو ہجرت کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی۔ ہجرت اسی لیے ہوتی ہے کہ مخاطب قوم نے نبی کو مطاع تسلیم نہیں کیا۔ ایسی حالت میں ان کے درمیان نہ اسلامی اسٹیٹ قائم ہونے کا سوال ہے اور نہ لوگوں کے سامنے قوانین شریعت کا عملی ’’عملی شہادت‘‘ پر یہ تنقید دراصل محولہ بالا تعبیر کے پہلو سے ہے۔ جس میں شہادت کی مطلوبہ ادائگی کے لیے اس بات کو ضروری قرار دیا گیا ہے کہ ایک مکمل اسٹیٹ کی حیثیت سے شریعت کا عملاً مظاہرہ کیا جائے ۔ ورنہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ شاہد حق کا اپنی ذاتی حیثیت میں باعمل ہونا اس کے اپنے عقیدے اور مسلک کا لازمی تقاضا ہے۔ جو شخص دوسروں کو آخرت سے ڈراتا ہے اور خود آخرت سے نہیں ڈرتا ، دوسروں کو خدا پرستی کی تلقین کرتا ہے۔ مگر اس کی اپنی زندگی خدا پرستی کی روح سے خالی ہے ، وہ داعی نہیں ، ایک مسخرہ انسان ہے ، اس کی دعوتی جدوجہد محض کچھ الفاظ کی تکرار ہے۔ اور صرف الفاظ کی تکرار کسی کو نہ خدا کی نظر میں شاہد بنا سکتی اور نہ بندوں کی نظر میں ۔ شاہ اسماعیل شہید لکھتے ہیں : ’’واعظ بے عمل سدرہ طالب حق است کہ بسبب مداہنت در عمل کلام حق را در نظر ایشان بے اعتباری گرداند‘‘ (منصب امامت، صفحہ 16)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page