Urdu book · تعبیر کی غلطی

تقابل

Urdu book, p. 404

By Maulana Wahiduddin Khan

مظاہرہ کرنے کا، مگر یہی ہجرت قوم کو عذاب کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے اوپر جو حجت قائم کرنا مطلوب ہے وہ صرف تبلیغی جدوجہد سے پوری ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہجرت کے بعد نبی کی مخاطب قوموں کو مستحق عذاب ٹھہرا کر انھیں ہلاک نہ کیا جاتا۔ کیوں کہ ہجرت کسی عملی شہادت کے بعد نہیں ہوتی۔ بلکہ قولی شہادت کے بعد ہوا کرتی ہے۔ بے شک آخری نبی کی ہجرت کا واقعہ دوسرے انبیاء سے کسی حد تک مختلف ہے۔ کیوں کہ آپ کی ہجرت کے بعد فوراً آپ کی قوم پر کوئی آسمانی عذاب نہیں آیا، بلکہ بعد کو مومنین کی تلوار سے منکرین نبوت کا خاتمہ کیا گیا۔ اس دوران میں آپ نے مدینہ پہنچ کر ایک اجتماعی نظام قائم کرنے کی کوشش فرمائی۔ مگر مدینہ میں مسلمانوں کا اجتماعی نظام بنانے کی کوشش کارِ شہادت کی تکمیل کے لیے نہیں تھی۔ شہادت کا کام تو نبی آخری حد تک مکہ میں کر چکے تھے۔ اور اس کام کی تکمیل ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ ہجرت سے پہلے انھیں ’’أَيُّهَا الْكَافِرُونَ‘‘ (109:1) کے لفظ سے خطاب کیا گیا ۔ ( کافرون ) اس خطاب میں کسی پیدائشی ” کفر “ کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس کفر کا ذکر ہے جو شہادت کی مطلوبہ ادائگی کے بعد متحقق ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مشرکین مکہ کا جرم ہجرت ہی کے وقت متحقق ہو چکا تھا۔ نہ کہ مدینہ کی اسلامی اسٹیٹ کے بعد متحقق ہوا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ مدینہ میں جونظام بنا، وہ نہ صرف یہ کہ اہل مکہ کی نظروں سے بہت دور تھا۔ بلکہ اس وقت تک اس نظام نے کوئی ایسی شکل بھی اختیار نہیں کی تھی جس کو مذکورہ بالا معنوں میں عملی شہادت کہا جا سکے۔ غزوہ بدرجس میں مشرکین کے اکثر سردار مارے گئے اور جو قرآن کی تصریح کے مطابق ”مومنین کے ہاتھوں“ اہل مکہ کے اوپر خدا کا عذاب تھا (9:14) ۔ وہ ہجرت کے صرف ڈیڑھ سال بعد واقع ہوا۔ ؎ ؎ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے تیرھویں سال ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ پہنچے۔ اگلے سال رمضان 2ھ میں بدر کا معرکہ پیش آیا۔ سن عیسوی کے اعتبار سے: قبامیں ورود 20 ستمبر 622— غزوہ بدر 13 مارچ (624

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page