تقابل
Urdu book, p. 405
By Maulana Wahiduddin Khan
جب کہ زندگی کے بہت سے پہلوؤں کے متعلق شریعت کے احکام ابھی سرے سے نازل ہی نہیں ہوئے تھے۔ اور مدینہ کی ابتدائی ریاست، یقینی طور پر ان تمام باتوں کا عملی مظاہرہ نہیں کر سکی تھی، جس کو اوپر کی تشریح میں ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پھر کیا شہادت کی تکمیل سے پہلے انھیں "راہ راست پر نہ آنے" کا مجرم ٹھہرا کر سزا دے دی گئی۔ کیا رسولوں نے وہ کام آخری حد تک انجام نہیں دیا جس کے لیے وہ بھیجے گئے تھے، اور اتمام حجت کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ نے ان کی مخاطب قوموں کو ہلاک کر دیا۔ پھر یہی نہیں، بلکہ آپ کے عملی شہادت کے فلسفے نے خود شہادت حق کے تصور کو بدل دیا۔ اس نے شہادت کے کام کے رخ کو آخرت کے عذاب وثواب سے ہٹا کر دنیا کے عذاب وثواب کی طرف کر دیا ہے۔ شہادت کا اصل مقصد آخرت کی حقیقتیں دکھانا ہے۔ مگر اس تعبیر نے شہادت کے کام کو ایک ایسا کام بنا دیا جس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو دنیا کی حقیقتیں دکھائی جائیں۔ اوپر جو اقتباس میں نے درج کیا ہے، اس کو ایک بار اور پڑھ جائیے— اگر یہ یوٹوپیا بالفرض عمل میں آجاۓ اور آپ فی الواقع زندگی کے تمام بین الانسانی اور بین الاقوامی پہلوؤں میں وہ مکمل شہادت دے ڈالیں، جس کا اس عبارت میں ذکر کیا گیا ہے، تو مجھے بتائیے کہ آپ کس چیز کی شہادت دیں گے— صرف اس بات کی شہادت کہ اسلام اخلاق و معاملات کو درست کرتا ہے۔ اس سے خوش حالی اور انصاف کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ وہ معاشرتی بہبود اور سیاسی راست بازی وجود میں لاتا ہے۔ اگر تم نے اسلامی نظام کو اختیار نہ کیا تو تمہاری سیاست و معاشرت بگڑ جائیگی، تم آپس میں لڑ کر تباہ ہوجاؤ گے۔ غور کیجیے کیا یہی وہ چیز ہے جس کی ہمیں دنیا کے سامنے گواہی دینی ہے۔ کیا ہزاروں رسول صرف اس لیے بھیجے گئے تھے کہ وہ خدا پرستانہ عقائد کے دنیوی نتائج لوگوں کو دکھا دیں۔ قرآن کی تصریحات کے مطابق شہادت کا اصل کام اہل دنیا کو یہ بتانا ہے کہ اسلام ہی انسان کی اخروی فلاح کا ضامن ہے۔" مگر آپ نے اپنی جدوجہد کی آخری منزل پر پہنچنے کے بعد بھی جس چیز کی شہادت دی وہ یہ کہ اسلام ہی انسان کی دنیوی فلاح کا ضامن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader