تقابل
Urdu book, p. 406
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف یہ واقعہ زیر بحث تعبیر کے غلط ہونے کا کافی ثبوت ہے کہ وہ اسلام کو زمینی مسائل کا موضوع بنا کر رکھ دیتی ہے ، اور اُخروی مسائل کا ذکر اگر آتا ہے، تو اس حیثیت سے گویا وہ کانٹ کی حکمت عملی (practical wisdom) یا اولیٹر کا اخلاقی مفروضہ ہے، جس کا مقصد ایک ایسی ذہنی بنیاد فراہم کرنا ہے جو دنیا کی زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ہو سکے۔ ”عملی شہادت“ کا یہ فلسفہ الگ سے وجود میں نہیں آیا۔ یہ دراصل اسلام کی مذکورہ بالا تعبیر کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب آپ نے شہادت کو ایک ایسا کام قرار دیا جو عملاً کر کے لوگوں کو دکھایا جاتا ہے تو کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے تھی، جس کو ”عمل‘‘ کی شکل دی جا سکے۔ ظاہر ہے کہ عقائد یا تقویٰ اور خشوع کی کیفیات وہ چیزیں نہیں ہیں، جن کا عملاً مظاہرہ کیا جائے۔ اور نہ جنت اور جہنم کسی کو دکھائی جاسکتی ہیں۔ عملی مظاہرے کی چیز تو صرف وہ چلتی پھرتی زندگی ہے، جو دنیا میں نظر آتی ہے۔ اس لیے شہادت کی تشریح کرتے وقت آپ کا ذہن قدرتی طور پر دنیوی واقعات کی طرف مڑ گیا۔ ایک ایسا کام جس کا مقصد اُخروی واقعات کی شہادت تھا، وہ آپ کے غلط تصور کی وجہ سے دنیوی واقعات کی شہادت بن گیا۔ کیوں کہ اُخروی حقیقتوں کی تو صرف خبر ہی دی جاسکتی ہے۔ دکھانے کی چیز عالم ظاہر کے واقعات ہیں، نہ کہ عالم باطن کے واقعات۔ پھر اپنی فکر کو اسلام کے مجموعے میں فٹ کرنے کے لیے بھی اس قسم کی تفسیر ضروری تھی۔ جب بھی آپ اسلام کی کوئی تشریح کریں تو ضروری ہو گا کہ اسلام کے تمام معلوم ومنصوص اجزاء کو اس میں سموئیں ، اور اپنی تشریح سے انہیں ہم آہنگ کریں۔ اس کے بغیر آپ کی تشریح صحیح اسلامی تشریح نہیں کہی جاسکتی۔ یہ ضرورت بھی آپ کے ذہن کو عملی شہادت کے فلسفہ تک لے گئی ۔ تا کہ یہ ثابت ہو سکے کہ شہادت کی ادائیگی کے لیے ایک ہمہ گیر انقلاب برپا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر اس کام کی تکمیل نہیں ہوسکتی، جو شہادت کے عنوان سے ہمارے اوپر فرض کیا گیا ہے۔ اسلامی تحریک کو دنیا کا نظام بدل کر ایک نیا نظام قائم کرنے کی تحریک قرار دینے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader