Urdu book · تعبیر کی غلطی

تقابل

Urdu book, p. 407

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد تبلیغ و شہادت کے حکم کی ایسی تشریح کرنی ضروری تھی، جس میں تبلیغ کرنے اور نظام بدلنے کا فرق مٹ جائے اور دونوں ایک نظر آنے لگیں۔ مگر خدا کا دین ایک ایسا ہم آہنگ کل ہے جس کو اس نے کمال درجہ حکمت کے ساتھ باہم متحد کیا ہے۔ اس کے کسی جز ء کی تشریح میں آپ غلطی کریں تو وہ فوراً اس کے دوسرے اجزاء سے ٹکرا جائے گی۔ اور یہ ٹکراؤ اس بات کا قطعی ثبوت ہوگا کہ آپ کی تعبیر خدا کے دین کی صحیح تعبیر نہیں۔ 3۔ پھر اسی کا نتیجہ ہے کہ دینی حقیقتوں کے اظہار کے لیے اس کو جو بہترین الفاظ ملے وہ سب سیاسی نوعیت کے تھے۔ مثلاً معراج اسلامی تاریخ کا مشہور ترین واقعہ ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مقصد ’’ آیات اللہ ‘‘ کا مشاہدہ تھا۔ حدیث میں اس کی تفصیل ملتی ہے کہ اس سفر میں آپ کو عالم مادی کے پیچھے خدا کی اس دوسری دنیا کا مشاہدہ کرایا گیا، جہاں فرشتے ہیں، جہاں جنت اور دوزخ ہے، جہاں مرنے کے بعد انسان پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس سفر میں آپ کو خداوند ذوالجلال سے ہم کلامی کا شرف بخشا گیا، گناہوں کی بخشش کی امید دلائی گئی، یہ بتایا گیا کہ برائی کرنے والے کو تو اتنا ہی بدلہ دیا جاتا ہے جتنا اس نے کیا ہے۔ مگر نیکی کرنے والے کو اس کے اصل عمل سے زیادہ انعام ملتا ہے۔ مگر زیر بحث تعبیر کے لیے معراج کے اس تصور میں کچھ زیادہ تسکین کا سامان نہیں۔ اس کو شکایت ہے کہ۔ ’’ معراج کی رات کی اہمیت بعض دینیاتی بحثوں میں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس رات میں انسانیت کی تعمیر کے لیے کتنا عظیم الشان کارنامہ انجام پایا۔‘‘ اس سفر کی نوعیت کا تعارف یہ ذہن مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتا ہے۔ ’’ اصل بات یہ ہے کہ یہ کرۂ زمین جس پر ہم آپ رہتے ہیں، خدا کی عظیم الشان سلطنت کا ایک چھوٹا سا صوبہ ہے۔ اس صوبہ میں خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھیجے گئے ہیں ان کی حیثیت کچھ اس طرح کی سمجھ لیجیے، جیسے دنیا کی حکومتیں اپنے ماتحت ملکوں میں گورنر یا وائسرائے بھیجا کرتی ہیں۔ ایک لحاظ سے دونوں میں بڑا بھاری فرق ہے۔‘‘

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page