تقابل
Urdu book, p. 408
By Maulana Wahiduddin Khan
آخری فقرہ کو پڑھ کر بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بعد وہ "فرق" بتایا جائے گا، جو حقیقتاً دونوں کے درمیان ہے۔ یعنی ایک کا تعلق دنیا کی تعمیر سے ہے اور دوسرے کا تعلق آخرت کی تعمیر سے۔ مگر اس کے بعد جو الفاظ درج ہیں وہ یہ ہیں : ”دنیوی حکومتوں کے گورنر اور وائسرائے محض انتظام ملکی کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں اور سلطانِ کائنات کے گورنر اور وائسرائے اس لیے مقرر ہوتے ہیں کہ انسان کو صحیح تہذیب، پاکیزہ اخلاق اور سچے علم وعمل کے وہ اصل بتائیں جو روشنی کے مینار کی طرح انسانی زندگی کی شاہراہ پر کھڑے ہوئے صدیوں تک سیدھا راستہ دکھاتے ہیں۔“ (معراج کی رات) معراج کا مذکورہ بالا تعارف اصلاً غلط نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے تعارف کے لیے زیر بحث ذہن کو جو بہترین الفاظ ملے وہ وہی تھے، جس میں یہ واقعہ سیاسی غلاف میں لپٹا ہوا نظر آنے لگا۔ حالانکہ قرآن وحدیث کی تفصیلات کے مطابق اس واقعہ کا اصل پہلو عالم آخرت کا مشاہدہ ہے، نہ کہ نظام دنیا کی تعمیر۔ یہ تعبیر ان مذکورہ تفصیلات کا بھی ذکر کرتی ہے۔ مگر وہ اس کے نزدیک ”کیفیت معراج“ سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں، اور معراج کی حقیقی اہمیت کیفیت معراج میں نہیں، بلکہ مقصد اور نتیجہ معراج میں ہے۔“ (معراج کی رات، تمہید) ذہنیت کا یہ فرق وہاں اور زیادہ نمایاں ہو گیا ہے، جہاں وہ بنیادی ”اصول“ بتائے گئے ہیں، جو معراج کے ”اصل مقصد“ کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیے گئے تھے۔ یہ ”چودہ اصول“ ہیں اور اس لیے دیے گئے ہیں، تا کہ ان پر ”انسانی تمدن واخلاق کی تعمیر“ کی جائے ۔ مصنف کے الفاظ میں ”۔ اسلام کی تحریک ایک اسٹیٹ میں تبدیل ہونے کو تھی۔ اس لیے اس اہم موقع پر ایک نیا پروانہ تقرر اور نئی ہدایات دینے کے لیے بادشاہ کائنات نے آپ کو اپنے حضور میں طلب فرمایا۔“ مندرجہ بالا چودہ اصول درج کرنے کے بعد، مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader